رسائی کے لنکس

تاہم، نائجیریا کے صدر نے اِس بات کی پیش گوئی کی کہ ’جاری کثیر ملکی کارروائی‘ کے نتیجے میں، آئندہ تین ہفتوں کے دوران، بوکو حرام کو نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے سے باہر نکال دیا جائے گا، جو اِس وقت اُس کے زیر تسلط ہیں

نائجیریا کے صدر، گُڈلک جوناتھن نے کہا ہے کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں کو مشرق ِ وسطیٰ کی کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے، جنھیں داعش کی سرپرستی حاصل ہے۔

صدر نے یہ بات بدھ کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار، کِرس اسٹائین کو ابوجا میں انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

چار روز قبل، بوکو حرام کے سربراہ نے دولت اسلامیہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

مسٹر جوناتھن نے کہا کہ، ’ہمیں اس بات کا پتا ہے کہ دونوں گروہوں کے آپس میں رابطہ ہے‘۔

بقول اُن کے، ’بوکو حرام کے کچھ ارکان داعش کے تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے آتے جاتے رہتے ہیں۔‘


جب اُن سے اِن کیمپوں کے مقام کے بارے میں پوچھا گیا، تو نائجیریا کے صدر نے مشرق وسطیٰ کا نام لیا۔ تاہم، اُنھوں نے واضح طور پر اِن ملکوں کی نشاندہی نہیں کی۔

اُنھوں نے اِس بات کی بھی پیش گوئی کی کہ جاری کثیر ملکی کارروائی کے نتیجے میں، آئندہ تین ہفتوں کے دوران، بوکو حرام کو نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے سے باہر نکال دیا جائے گا، جو اِس وقت اُس کے زیر تسلط ہیں۔

نائجیریا کی حکومت کے ترجمان، مائیک عمری نے بدھ کے روز بتایا کہ گذشتہ جمعے سے اب تک اس شدت پسند گروپ سے مجموعی طور پر 36 قصبہ جات واگزار کرائے جا چکے ہیں۔

ترجمان نے بوکوحرام کے جنگجوؤں کو کمک پہنچائے جانے کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے حوالے سے چاڈ، کیمرون اور نائجر کو سراہا۔

نائجیریا میں بوکوحرام کی سرکشی ایک سنگین مسئلہ ہے، ایسے میں جب مسٹر جوناتھن دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ملک کے شمال مشرق میں سکیورٹی کی خراب صورت حال کے باعث، عام انتخابات چھ ہفتوں کے لیے مؤخر کیے گئے تھے؛ جو اب 28 مارچ کو ہونے والے ہیں۔

صدر جوناتھن کو ملک کے ایک سابق فوجی حکمراں، محمدو بوہاری؛ اور ایک نئی اپوزیشن پارٹی ’آل پروگریسو کانگریس‘ کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG