رسائی کے لنکس

سوشل میڈیا پر داعش کے خلاف پیغامات میں اضافہ ہوا: رچرڈ سٹینگل


محکمہ خارجہ میں انڈر سیکرٹری برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈ پبلک افیئرز رچرڈ سٹینگل نے کہا کہ ان کے خیال میں ’’بازی پلٹ رہی ہے‘‘ اور داعش کے پیغامات کے مقابلے میں اس کے خلاف جاری ہونے والے پیغامات کہیں زیادہ ہیں۔

امریکہ کے محمکہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران داعش کے سوشل میڈیا پر پیغامات میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

محکمہ خارجہ میں انڈر سیکرٹری برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈ پبلک افیئرز رچرڈ سٹینگل نے کہا کہ ان کے خیال میں ’’بازی پلٹ رہی ہے‘‘ اور داعش کے پیغامات کے مقابلے میں اس کے خلاف جاری ہونے والے پیغامات کہیں زیادہ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت مؤثر رہی ہے۔ اکثر لوگوں نے سرقلم کرنے کے واقعات کے بارے میں پڑھا ہو گا یا ان کی تصاویر دیکھی ہوں گی مگر وہ داعش کے حق میں پروپیگنڈا اور داعش کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا پر ہزاروں پیغامات سے ناواقف ہیں۔

اب تک امریکہ اور دوسرے ممالک داعش کے پیغامات کے توڑ کے لیے اس سے زیادہ پیغامات بھیجنے میں زیادہ مؤثر نہیں رہے ہیں۔ جون میں روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ نے کہا تھا کہ داعش ’’سوشل میڈیا جنگ‘‘ جیت رہی ہے۔ اس رپورٹ میں محکمہ دفاع کے ایک اندرونی تجزیے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

مئی میں سینیٹر کوری بُکر نے کہا تھا کہ داعش کے خلاف پیغامات بہت کم ہیں۔

مگر سٹینگل نے کہا کہ بُکر جیسے قانون ساز داعش کے خلاف عربی میں بھیجے گئے پیغامات کی تعداد کو بھول رہے ہیں۔

انہوں نے جمعہ کو وائس آف امریکہ کی محکمہ خارجہ کی نمائندہ پامیلا ڈوکنز کو بتایا کہ ’’داعش (سے متعلق) 95 فیصد پیغامات عربی میں ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس کے کتنے اراکین عربی میں سوشل میڈیا پیغامات پڑھتے ہیں۔ وہ صرف چند اُن پیغامات کو دیکھ رہے ہیں جو ہم انگریزی میں کرتے ہیں۔‘‘

سٹینگل محکمہ خارجہ میں سینٹر فار سٹریٹجک کاؤنٹر ٹررزم کمیونیکیشنز کے سربراہ ہیں۔ جو بینادی طور پر القاعدہ کے انسداد کے لیے بنایا گیا تھا مگر اب کل وقتی طور پر داعش کے خلاف پیغامات کا مرکز ہے۔

انہوں نے کہ اس مرکز کے تحت وہ دنیا کے مختلف حصوں میں داعش کے خلاف نیٹ ورک قائم کر رہے ہیں۔ پہلے ایسے نیٹ ورک نے جولائی میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے اشتراک سے ابو ظہبی میں کام شروع کیا تھا جو داعش کے پروپیگنڈا کا فوری جواب دیتا ہے۔

انہوں نے کہا اس سینٹر کے اب 10,000 سے زائد پیروکار ہیں۔ اردن اور مصر میں بھی داعش کا فوری جواب دینے والے مراکز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نئے نیٹ ورکس کا اعلان نیویارک میں منگل کو اقوام متحدہ کے پر تشدد انتہا پسندی کے بارے میں ایک سربراہ اجلاس کے موقع پر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’’جب دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ مسلمان داعش کی سرگرمیوں سے متنفر ہوں گے تو آپ میڈیا میں ان کے خلاف پیغامات کی لہر میں اضافہ دیکھیں گے اور پھر یہ لہر ان کے پیغامات کو مکمل طور پر بہا لے جائے گی۔‘‘

XS
SM
MD
LG