رسائی کے لنکس

بغداد میں دو خود کش حملے، ابو غریب پر داعش کا حملہ پسپا


الصدر سٹی میں اتوار کی شام ہونے والے دھماکوں کے بعد کا منظر

الصدر سٹی میں اتوار کی شام ہونے والے دھماکوں کے بعد کا منظر

بغداد میں اتوار کی شام ہونے والے دو خود کش حملوں اور شہر کے نواح میں واقع بدنامِ زمانہ جیل ابو غریب پر داعش کے حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں اتوار کی شام ہونے والے دو خود کش حملوں اور بدنامِ زمانہ عراقی جیل ابو غریب پر داعش کے حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار خود کش بمباروں نے اتوار کی شام دارالحکومت کی ایک پرہجوم موبائل مارکیٹ میں خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

دھماکے بغداد کے کے شیعہ اکثریتی شمال مشرقی ضلعے الصدر سٹی میں ہوئے جو ماضی میں بھی کئی بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے دھماکوں میں 60 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

علاقے میں آخری بڑا حملہ گزشتہ سال اگست میں ہوا تھا جب ایک ٹرک میں سوار خود کش حملہ آور نے ایک بازار میں خود کو اڑالیا تھا۔ حملے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش نے آن لائن جاری کیے جانے والے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے میں سیکڑوں شیعہ افراد کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حملے کے بعد عراق کے اہم شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامی جنگجووں کو دارالحکومت بغداد کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

الصدر سٹی میں حملے سے چند گھنٹے قبل داعش کے جنگجووں نے بغداد کے نواح میں واقع بدنامِ زمانہ جیل ابو غریب پر حملہ کیا تھا جس میں عراقی سکیورٹی فورسز کے کم ا زکم 30 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

عراقی حکام کے مطابق اتوار کو علی الصباح گاڑیوں پر سوار کئی درجن حملہ آوروں نے بغداد سے 25 کلومیٹر مغرب میں واقع ابو غریب جیل پر دھاوا بول دیا تھا۔

عراقی پولیس اور فوج کے مطابق حملہ آور داعش کے زیرِ قبضہ نزدیکی علاقے فلوجہ کی طرف سے آئے تھے اور ہموی گاڑیوں پر سوار تھے جن پر مشین گنیں نصب تھیں ۔

حملے کے فوری بعد داعش کی نیوز ایجنسی 'عمق' نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگجووں کے حملے کے باعث عراقی سکیورٹی فورسز جیل کےنزدیک کئی مقامات سے پسپا ہوگئی ہیں۔

تاہم عراقی فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرکے جنگجووں سے نزدیکی پولیس اسٹیشن اور کئی چوکیوں کا قبضہ چھڑالیا ہے جس کےبعد جنگجووں نے جیل کے نزدیک واقع اناج ذخیرہ کرنے کے ایک گودام اور قریبی قبرستان میں مورچے سنبھال لیے تھے۔

حملے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جب کہ بغداد سے عراقی فوج کے خصوصی دستے طلب کرلیے گئے تھے جنہوں نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مقابلے کے بعد جنگجووں کا حملہ پسپا کردیا ہے۔

عراقی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گودام اور قبرستان میں پناہ لیے ہوئے جنگجووں پر فوجی ہیلی کاپٹروں سے بمباری بھی کی گئی۔

عراق کی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان یوسف العبادی نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ابو غریب جیل پر جنگجووں کے حملے میں 30 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اتوار کی سہ پہر تک جاری رہی جس میں جیل پر حملہ کرنے والے تقریباً تمام جنگجو مارے گئے ہیں۔

حملے کے بعد بغداد کے سفارتی علاقے'انٹرنیشنل زون' اور ابو غریب جیل کے نزدیک واقع بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی کی سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی۔

عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیاؤں کے اتحاد 'الحشد الشعبی' کے ایک کمانڈر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ داعش کے حملے کے بعد اتحاد کے رضاکارجنگجووں کو بھی عراقی سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے ابو غریب کے اطراف میں تعینات کردیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG