رسائی کے لنکس

داعش نے شمالی عراق میں 'کیمیائی ہتھیار' استعمال کیے: کرد حکام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں ماہ کے اوائل میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کانگریس کو بتایا تھا کہ شدت پسند گروپ عراق اور شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر چکا ہے۔

کرد حکام امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کے ساتھ مل کر اس بات کی تصدیق کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں کہ داعش نے عراق کے علاقے سنجار میں کرد پیش مرگہ جنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔

25 فروری کو ہونے والے اس حملے میں داعش نے دیسی ساختہ راکٹوں سے علاقے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے درجنوں پیش مرگہ اور عام شہری قے اور متلی کی شکایت کر رہے ہیں۔

کرد سکیورٹی کونسل کے مطابق وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو کرد حکام کے بقول یہ اس کی فورسز پر ہونے والا آٹھواں کیمیائی حملہ ہو گا۔

رواں ماہ کے اوائل میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کانگریس کو بتایا تھا کہ شدت پسند گروپ عراق اور شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر چکا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن بھی تصدیق کی تھی کہ داعش کے پاس کلورین اور دوسری زہریلی گیس پر مشتمل ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم نے خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا تھا کہ سائنسی تجزیوں سے یہ بات پتا چلی ہے کہ گزشتہ سال کرد جنگجوؤں کو مسٹرڈ گیس کا سامنا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG