رسائی کے لنکس

داعش کے چھوڑے ہوئے علاقوں میں بھیڑیں سیاہ پڑ گئیں


تیل کے جلتے ہوئے کنوؤں نے شمالی عراق میں زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

جلتے ہوئے کنوؤں سے کئی کلومیٹر تک کے فاصلے کا منظر کالے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ٹرک، گاڑیاں، عمارتیں، درخت، جانور غرض ہر چیز دھوئیں سے کالی پڑ چکی ہے۔

عراق کے ان صحرائی علاقوں میں جہاں سرکاری فورسز اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑ رہی ہیں، گلہ بانوں کی بھیڑیں سیاہ پڑ چکی ہیں اور دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے مقامی آبادیاں کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے سیٹلائٹ سے جو تصاویر حاصل کی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتا ہوا تیل دریائے دجلہ کی جانب بڑھ رہا ہے، جو علاقے کے لوگوں کے لیے پانی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

عراقی فورسز کے ساتھ لڑائیوں میں بھاگتے ہوئے اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو تیل کے کنوؤں کو آگ لگا رہے ہیں ۔ شمالی عراق میں تیل کے کنوؤں سے بلند ہوتے ہوئے شعلے اور دھوئیں کے بادل ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

موصل سے محض 40 میل کے فاصلے پر واقع ایک قصبہ قیارہ کئی مہینوں سے زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں ہے جہاں عراقی فورسز انتہا پسند سنی گروپ اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کے لیے لڑ رہی ہیں۔

نومبر میں شائع ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ 155 مربع میل سے زیادہ علاقہ گہرے دھوئیں کی لپیٹ میں ہے۔ کچھ اور تازہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر بہتا ہوا تیل دریائے دجلہ سے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

تیل جلنے سے زہریلے مادے ہوا ، زمین اور پانی کے ذرائع میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایک ایسا ہی منظر 1991 میں اس وقت پیش آیا تھا جب عراقی فورسز نے کویت خالی کرتے وقت 650 کنوؤں کو آگ لگا دی تھی۔

طیارہ کے ایک مقامی اسپتال میں ایک ڈاکٹر نے، جس نے عسکریت پسندوں کے ڈر سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی، خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں اسپتال میں بڑی تعداد میں ایسے مریض آ رہے ہیں جو سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر نے مریضوں کی تعداد بتائے سے انکار کر دیا۔

ایک ٹوٹے ہوئے پل کے پاس واقع ایک فوجی چوکی کے قریب بھیڑیں چرانے والے چرواہے نے نامہ نگار کو بتایا کہ زہریلے دھوئیں سے اس کے ریوڑ کی 60 میں 10 بھیڑیں مر چکی ہیں اور باقیوں کی رنگت سفید سے سیاہ ہوگئی ہے۔

چالیس سالہ چرواہے حامد کا کہنا تھا کہ اس کی بھیڑوں کی اون کالی اور تیل سے لتھڑ گئی ہے۔ تیل کے ذرات فضا میں موجود ہیں۔

اس مقام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اسلامک اسٹیٹ نے تقریباً 20 کنوؤں کو آگ لگا دی تھی جن میں نصف سے زیادہ میں ابھی تک شعلے اٹھ رہے ہیں۔

یہاں ایک سو کے لگ بھگ فائر فائیٹرز اور انجنیئرز آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں لیکن غیر موافق حالات کے باعث آگ پر جلد قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ جلتے ہوئے کنوؤں سے کئی کلومیٹر تک کے فاصلے کا منظر کالے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ٹرک، گاڑیاں، عمارتیں، درخت، جانور غرض ہر چیز دھوئیں سے کالی پڑ چکی ہے۔

شعلوں کی حدت اس قدر زیادہ ہے کہ 20 میٹر کے فاصلے پر سگریٹ خود بخود سلگ اٹھتا ہے۔

آگ بجھانے کا کام کرنے والے ایک انجنیئر عیاض الجبوری نے بتایا کہ بعض دفعہ موسم انتہائی نا مہربان ہو جاتا ہے جس سے ہمارے کارکن جھلس جاتے ہیں اور آلات کو نقصان پہنچتا ہے۔ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جلد تک جل جاتی ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ دوزخ اور کیا ہوگا، مجھے تو یہ منظر جنہم جیسا لگتا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG