رسائی کے لنکس

فلوجہ چھوڑنے والوں کو داعش نشانہ بنا رہی ہے: امدادی تنظیم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

’این آر سی‘ کی رپورٹ کے مطابق داعش اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان لڑائی کے باعث جو شہری علاقہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں داعش کے جنگجو اُن پر فائرنگ کرتے ہیں۔

ناروے کی ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم ’نارویجن ریفوجی کونسل‘ نے کہا ہے کہ عراق کے شہر فلوجہ سے نکل مکانی کرنے والے شہریوں کو داعش کے جنگجو نشانہ بنا رہے ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقعہ فلوجہ شہر شدت پسند تنظیم داعش ایک گڑھ ہے اور گزشتہ ہفتے عراقی فورسز نے اس کا قبضہ چھڑانے کے لیے آپریشن کے حتمی مرحلے کا آغاز کیا تھا۔

’نارویجن ریفوجی کونسل‘ یعنی ’این آر سی‘ کی رپورٹ کے مطابق داعش اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان لڑائی کے باعث جو شہری علاقہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں داعش کے جنگجو اُن پر فائرنگ کرتے ہیں۔

امدادی تنظیم کے مطابق اتوار کو دریائے فراط عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کئی شہری مارے بھی گئے۔ ایک اندازے کے مطابق فلوجہ میں لگ بھگ 50 ہزار عام شہری ہیں۔

’این آر سی‘ عراق میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے کام کر رہی ہے اور اُس نے اپنی یہ رپورٹ اُن افراد سے انٹرویوز کے بنیاد پر تیار کی جو فلوجہ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائیہ کی مدد سے عراقی فورسز، داعش سے فلوجہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے لڑ رہی ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں کی شدید مزاحمت کی وجہ سے عراقی فورسز کی پیش قدمی رک گئی تھی۔

’این آر سی‘ کے عراق میں کنٹری ڈائریکٹر نصر مفلاحی نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم اُن افراد کا تحفظ ہے جو کہ شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق لڑائی کے آغاز پر 21 مئی سے اب تک فلوجہ کے ارد گرد سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد 2,980 ہے۔

عراقی افوج نے اتوار کو کہا تھا کہ اُنھوں نے فلوجہ کے جنوبی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ دوسری جانب شام میں بھی داعش کے مرکزی علاقے رقہ میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے تاکہ اس علاقے سے شدت پسند تنظیم کا قبضہ ختم کرایا جا سکے۔

داعش نے عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کر کے خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ سال سے اس تنظیم کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG