رسائی کے لنکس

دریں اثنا، حکومت شام نے اِس گروپ کو ہدف بنانے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں، ایسے میں جب شدت پسند شمال اور مغربی عراق کے کافی علاقوں کو اپنے قبضے میں کر چکے ہیں

داعش کے شدت پسند، جو ٹینکوں سے مسلح تھے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، ترکی کی سرحد کے قریب شمالی شام کے علاقے میں 21 کُرد دیہات پر قابض ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کے مطابق، شدت پسندوں نے شام کے شمال میں کوبانی کے کُرد خطے میں کافی علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے، جسے ’عین عرب‘کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔


اِس امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ پیش قدمی کرنے والے شدت پسندوں کی طرف سے قتل عام کےڈر کے باعث کُرد شہری دیہاتوں کے علاقے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

شام کی طاقتور ’کرُد ڈیموکریٹک یونین پارٹی‘ کے ترجمان، نوافل خلیل نے کہا ہے کہ کُرد لڑاکوں نے یا تو کوبانی کے علاقے سے پسپائی اختیار کرلی ہے یا پھر وہاں کے 20 کے قریب دیہات سے نکل گئے، جہاں سے شہریوں کا انخلا عمل میں آیا۔

کوبانی کے اِرد گِرد ہونے والی یہ لڑائی شام میں داعش کی وسیع تر جنگ کا ایک حصہ ہے، ایسے میں جب انتہا پسند شمال مشرق کے چند علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جو اب تک اُن کی دسترس سے باہر تھے۔

دریں اثنا، حکومت شام نے اِس گروپ کو ہدف بنانے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں، ایسے میں جب شدت پسند شمال اور مغربی عراق کے کافی علاقوں کو اپنے قبضے میں کر چکے ہیں۔

اِس سے قبل، صدر بشار الاسد نے زیادہ تر اِس گروپ کو درگزر کیے رکھا، جس کے برعکس، اُن کا ہدف، زیادہ تر، معتدل باغی دستے ہوا کرتے تھے۔

XS
SM
MD
LG