رسائی کے لنکس

محکمہٴخارجہ نے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑانے کی مذمت کی ہے۔ بیان میں صدر بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا گیا ہے

شام کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے شدت پسند گروہ کے زیر تسلط کلیدی شہر، رقعہ پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے کہا ہے کہ ایک جج کے مکان پر کیے جانے والے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

مبصر گروپ نے کہا ہے کہ اِن حملوں میں اسکول، ایک اسپتال، دولت اسلامیہ کی چوکیاں اور داعش کے زیر قبضہ ایک عمارت کو ہدف بنایا گیا۔

رائٹرز خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ تازہ ترین حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شامل ہیں۔


آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ منگل کے روز رقعہ پر کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کم از کم 52 سولینز شامل تھے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹیں موصول ہونے پر وہ ’خوف زدہ‘ ہے کہ اس شہر پر حکومت شام کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں سولینز ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز محکمہٴخارجہ نے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑانے کی مذمت کی۔ بیان میں صدر بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ شام کے شہریوں کا قتلِ عام جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے انسانی حقوق کی پرواہ نہ کرنے کے اُس کے بہیمانہ انداز کا بخوبی پتا لگتا ہے۔

XS
SM
MD
LG