رسائی کے لنکس

داعش کے ہاتھوں زیادتی کا شکار لڑکی کی انصاف کے لیے اپیل


یزیدی فرقے کی خواتین (فائل فوٹو)

یزیدی فرقے کی خواتین (فائل فوٹو)

نادیہ نے خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جبری شادی، جنسی زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کا سامنا کرنا پڑا۔

عراق میں شدت پسند گروپ داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان یزیدی خاتون نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دہشت گرد گروپ کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے کر جائے۔

21 سالہ نادیہ مراد باسی طحہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ گروپ یزیدی مذہب کے لوگوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

"وہاں قتل (کیے جا رہے ہیں)، اجتماعی غلام بنایا جا رہا ہے۔۔۔ اور یہ سب نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ یہ سب بین الاقوامی عدالت تک پہنچائیں گے۔"

انھوں نے یہ بات 15 رکنی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کہی جو کہ داعش کی طرف سے انسانی اسمگلنگ سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا تھا۔

نادیہ نے خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جبری شادی، جنسی زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے 2014ء میں دہشت گردوں کو گاؤں میں داخل ہو کر لوگوں کو اغوا کرنے اور خاندانوں کو علیحدہ کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کے مردوں کو قتل کر دیا گیا اس میں ان کے اپنے نو بھائیوں میں سے چھ کو بھی قتل کیا گیا۔

ان کے بقول عورتوں اور بچوں کو قریبی شہر موصل لے جایا گیا اور انھیں پہنچائی گئی ایذا ناقابل بیان ہے۔

"داعش ایک مقصد کے ساتھ آیا، یزیدی شناخت کو جنسی زیادتی کے ساتھ تباہ کرنے، بچوں کو عسکریت پسندوں میں بھرتی کرنے اور تمام عبادت گاہوں کو تباہ کرنے کے لیے۔"

نادیہ اب جرمنی میں رہتی ہیں جہاں انھیں طبی اور نفسیاتی علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے دنیا سے اپیل کی کہ وہ ایک خوفناک صورتحال سے فرار ہو کر تحفظ کی تلاش میں آنے والے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند نہ کرے۔

انسانی اسمگلنگ کا معاملہ صرف داعش کے زیر تسلط شامی اور عراقی علاقوں میں تک ہی محدود نہیں۔

عالمی ادارہ محنت "آئی ایل او" کے اندزاوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دو کروڑ لوگ انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کا شکار ہیں جن میں پچاس لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان الیاسن کہتے ہیں کہ "انسانی اسمگلنگ جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے۔" انھوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کام میں ملوث لوگوں کے لیے "کوئی جگہ نہ ہو جہاں سے وہ یہ سرگرمیاں کر سکیں۔"

ایک بیان میں سلامتی کونسل نے انسانی اسمگلنگ کی ہر شکل میں مذمت کی چاہے یہ دہشت گرد کر رہے ہوں یا کوئی اور۔

XS
SM
MD
LG