رسائی کے لنکس

ترکی: داعش کی وڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد


ترک شہر، دیارباقر (فائل)

ملک بھر میں فیس بک، ٹوئٹر، اور یوٹیوب سمیت سماجی رابطوں کی تمام اہم ویب سائٹیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔ شام گئے صرف ان ویب سائٹس کو بحال کیا گیا جنہوں نے یہ ویڈیو ہٹادی تھی جب کہ بلیک آؤٹ ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ بھی بہت کم رہی

ترکی کی حکومت نے داعش کی جانب سے دو ترک فوجی اہلکاروں کو زندہ جلانے کی ویڈیو جاری کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت پاندیاں عائد کر دی ہیں۔ داعش نے یہ ویڈیو 16 ترک فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے فوراً بعد جاری کی ہے جو شام میں داعش کے زیرِ قبضہ قصبے الباب میں جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تھے۔

شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے جمعے کو دو ترک فوجی اہلکاروں کو زندہ جلائے جانے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے فوراً بعد ترکی میں سوشل میڈیا کی کئی بڑی ویب سائٹس بند کردی گئیں۔ ملک بھر میں فیس بک، ٹوئٹر، اور یوٹیوب سمیت سماجی رابطوں کی تمام اہم ویب سائٹیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔ شام گئے صرف ان ویب سائٹس کو بحال کیا گیا جنہوں نے یہ ویڈیو ہٹادی تھی جب کہ بلیک آؤٹ ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ بھی بہت کم رہی۔

ترکی کے مرکزی ذرائع ابلاغ نے ویڈیو سے متعلق کوئی خبر جاری کرنے سے گریز کیا۔ ترک حکومت کے کسی عہدیدار نے بھی ویڈیو کے معاملے پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم، مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر قدغن اور ذرائع ابلاغ کو پابند بنانے کا مقصد ترکی میں امن و امان برقرار رکھنا تھا۔

اس ویڈیو کے جاری ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کو شام کے قصبے الباب پر قبضے کے لیے برسرِ پیکار ترکی کے 16 فوجی اہلکار داعش کے ایک خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔ ترکی نے رواں سال اگست میں داعش اور شامی نژاد کرد باغیوں کے خلاف شام میں سرحد پار کارروائیاں شروع کی تھیں جس کے بعد سے کسی ایک واقعے میں ہلاک ہونے والے ترک فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

جمعرات کو فوجیوں کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام میں ترک فوج کی کارروائیوں کا دفاع کیا۔

ترک صدر نے کہا کہ ترکی کی شام میں مداخلت صرف اپنے دفاع کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک فوج کی شام میں کارروائیوں میں اب تک داعش کے 200 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

ترک فوج نے شام میں سرحد پار کارروائیاں ترکی کے سرحدی شہر غازیان تیپ میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد شروع کی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی اور اس میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جمعے کو ترک سکیورٹی فورسز نے استنبول کے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 30 افراد کو گرفتار کیا جن پر داعش سے تعلق کا شبہ ہے۔ حکام کے مطابق مزید 10 مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG