رسائی کے لنکس

جنرل جوزف ڈنفورڈ اور جنرل راحیل کی ملاقات میں خاص طور پر پاک افغان سرحد پر دوطرفہ رابطوں اور نگرانی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج (ایساف) کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ جنرل جوزف ڈنفورڈ اور جنرل راحیل کی ملاقات میں خاص طور پر پاک افغان سرحد پر دوطرفہ رابطوں اور نگرانی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔

افغانستان سے 2014ء کے اواخر تک غیر ملکی افواج کے انخلاء کے تناظر میں پڑوسی ملک میں امن کے قیام کے لیے جاری مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردار کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

جب کہ غیر ملکی افواج کا عسکری ساز و سامان بھی پاکستان کے راستے سے ہو کر گزرنا ہے اس لیے مبصرین ایساف فورسز اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان قریبی روابط کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج سے یہ کہتی آئی ہے کہ وہ پاک افغان سرحد کی نگرانی کے عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

قبائلی پٹی کے دشوار گزار راستوں کی کڑی نگرانی نا ہونے کے سبب عسکریت پسندوں کی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت دونوں پڑوسی ملکوں کے لیے چیلنج ہے جب کہ یہ مسئلہ دوطرفہ کشیدگی کا بھی سبب بنتا رہا ہے۔

ایک ایسے وقت جب پاکستانی حکومت مذاکرات سے انکاری دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دے چکی ہے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کیوں کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں سرحد پار افغانستان کی جانب اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شدت پسند فرار ہو کر وہاں اپنی پناہ گاہیں قائم نا کر سکیں۔
XS
SM
MD
LG