رسائی کے لنکس

''عالمی ادارے 2050 تک پاکستان کو 'جی ٹوئنٹی' میں دیکھتے ہیں۔ ہم یہ ہدف 2030 تک حاصل کر لیں گے''، پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تھنک ٹینک میں گفتگو

پاکستانی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کا بحران 2018ء کے اختتام پر آئندہ کئی عشروں کے لیے ختم ہو جائے گا اور ملک 15 سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور اگلے 12 برسوں میں ملک دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہو چکا ہوگا۔


اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے معیشت، توانائی، انتہاپسندی اور تعلیم (سماجی ترقی) کی 'فور ای پالیسی' کو اپنی ترجیح بنایا تھا اور آج چاروں شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔


واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک، 'دی ہیریٹیج فائونڈیشن' میں ’ پاکستان میں اقتصادی اصلاحات: سرمایہ کاری کی جستجو، ترقی کے امکانات اور سماجی تبدیلی‘ کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو امریکہ سیمت دنیا بھر سے آنے والے مندوبین سوال کیا کرتے تھے کہ کبھی قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی ہو سکے گی؟

ان کے بقول، ہم نے بغیر بین الاقوامی برادری کے تعاون کے آپریشن 'ضرب عضب' اور 'ردالفساد' کے ذریعے فوجی کارروائی کی ''اور دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی''۔ ان آپریشنز میں، ان کے بقول، ''غیرمعمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں''۔

انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے آئندہ بجٹ میں ایک بلین ڈالر سالانہ کے حساب سے رقم مختص کی جائے گی۔


معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کی سمت درست کر دی ہے۔ فی کس آمدن سے لے کر ملکی قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور اس سال کے آخر پر بجٹ خسارے کی روایت ختم ہوجائے گی اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اعشاریوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بہت پرکشش جگہ بنا دیا ہے اور عالمی سطح پر اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سال 2050 تک 'جی ٹوئنٹی' ملکوں میں شامل ہوگا۔ تاہم، اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ ان کا اندازہ ہے کہ پاکستان اگر اسی رفتار سے ترقی کرتا ہے تو یہ ہدف سال 2030 تک حاصل کر لیا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے سے جڑے امکانات سے ہونے والے فائدے کو ابھی شمار نہیں کیا اور اعداد و شمار بہترین معیشت کے عکاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک 46 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہے جس میں 8 ارب ڈالر بجلی کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔

ان کے بقول، سی پیک سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی مستفید ہوگا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پروگرام کے تحت افرادی قوت کو ہنرمند بنایا جا رہا ہے، تاکہ وہ ان موقعوں سے استفادہ کر سکیں۔


وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان 2018 کے اختتام تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور گیس کے بحران پر قابو پا چکا ہوگا۔ اور 6 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی 15سے 18 ہزار میگاواٹ ضرورت سے وافر بجلی کی پیداوار میں تبدیل ہو چکی ہوگی۔ اسی طرح، ایل این جی منصوبے ملک میں گیس کی کمی ختم کر دیں گے۔


انہوں نے کہا کہ ''امریکہ پاکستان کا بہترین شراکت دار ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے سے لیے مل کر سرمایہ کاری تک، ہر جگہ تعاون کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور باقی رکاوٹیں بھی ختم کر جا رہی ہیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کو اپنے لیے بھی ضروری خیال کرتا ہے اور اس ضمن میں بڑی جانی اور مالی قربانیاں دے چکا ہے۔


وزیر خزانہ ایسے وقت واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان میں حکمران جماعت پر پاناما کیس پر عدالت کے فیصلے اور مزید تحقیقات کے ضمن میں دبائو کا سامنا ہے۔ انہوں نے گزشتہ شام صحافیوں سے گفتگو میں پاناما کے فیصلے پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس دورے کے آخری دن اس موضوع پر بات کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG