رسائی کے لنکس

تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ’عشرت العباد خان سابق صدور کے دور حکومت میں بھی ثالث پسندی کے لئے سب کو قابل قبول رہے، یہاں تک کہ بعض مواقع پر انہیں جادوئی شخصیت بھی کہا گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ ان کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ پیش کردی گئی‘

متحدہ قومی موومنٹ کا اپنے ہی گورنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کراچی کے انگنت شہریوں، خاص کر سیاسی حلقوں کے لئے حیران کن اور سوالیہ ثابت ہوا ہے۔ان حلقوں کو تعجب ہے کہ کچھ ہی مہینوں پہلے تک ’ثالث پسندی‘ کیلئے مشہور شخص سے ایسی کیا چوک ہوئی کہ آج وہ اچانک ’ناپسندیدہ‘ ہوگیا۔

اس سوال پر دن بھر گھروں، دفاتر حتیٰ کہ کاروباری مراکز میں بھی لوگ ایک دوسرے سے تبادلہٴخیال کرتے نظر آئے جبکہ میڈیا میں بھی اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں گردش کرتی رہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے نزدیک یہ موضوع بہت ’حساس‘ ہے اسی لئے وہ اپنا نام اور شناخت ظاہر کرنے پر آمادہ نہیں۔ تاہم، ان کا نظریہ، یہ ہے کہ اگر پارٹی سربراہ الطاف حسین ڈاکٹر عشرت العباد کو اشارہ بھی کرتے تو وہ از خود مستعفی ہوجاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پس پردہ معاملہ کچھ اور ہے۔

ریکارڈ مدت تک گورنر کے عہدے پر کام کرنے والے ڈاکٹر عشرت العباد خان اگر مطالبے پر مستعفی ہوجاتے ہیں تو اعلیٰ عہدوں سے راتوں رات علیحدہ کئے جانے والے وہ دوسرے شخص ہوں گے۔ اس سے قبل کراچی کے ناظم اعلیٰ رہنے والے مصطفیٰ کمال بھی عہدے سے الگ ہوکر اچانک سیاست سے گمنامی کے اندھیروں میں جا بسے تھے۔

تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ’عشرت العباد خان سابق صدور یعنی پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور حکومت میں بھی ثالث پسندی کے لئے سب کو قابل قبول رہے، جبکہ متعدد مواقع پر متحدہ کے سربراہ اور دیگر رہنماوٴں کی جانب سے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیاجاتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر انہیں جادوئی شخصیت بھی کہا گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ ان کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ پیش کردی گئی۔‘

کیا عشرت العباد گمنام ہوجائیں گے؟
مبصرین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی سے گردش کرنے لگا ہے آیا عشرت العباد خان گورنری سے علیحدہ ہونے کے بعد گمنامی میں چلے جائیں گے؟ اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ بقول مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگار ’متحدہ قومی موومنٹ کے ماضی میں صف اول میں کام کرنے اور بے انتہائی شہرت رکھنے والوں پر نظر ڈالیں تو بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ کئی اہم شخصیات نے بہت آگے بڑھ کر کام کیا یہاں تک کہ ہر طرف ان کی طوطی بولا کرتی تھی۔ لیکن، جیسے ہی انہیں منظر سے پس منظر میں بھیجا گیا وہ گمنام ہوگئے جیسے اجمل دہلو ی، اشتیاق اظہر اور مصطفیٰ کمال۔

تجزیہ نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ ندیم نصرت، ڈپٹی کنوینر متحدہ قومی موومنٹ اپنی پریس کانفرنس میں پہلے ہی یہ بات باور کراچکے ہیں کہ عشرت العباد مستعفی ہونے کے بعد عام کارکن کی حیثیت سے کام کریں۔

XS
SM
MD
LG