رسائی کے لنکس

امریکی، پاکستانی انٹیلی جنس سربراہان کے درمیان ’سودمند‘ بات چیت


آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر الاسلام

آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر الاسلام

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اپنے پہلے سرکاری دورہ پر امریکہ پہنچے جہاں انھوں نے جمعرات کو امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کی۔

امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کے درمیان ’’سودمند‘‘ بات چیت ہوئی ہے جسے امریکی حکام دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

پاکستانی کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اپنے پہلے سرکاری دورہ پر امریکہ پہنچے جہاں انھوں نے جمعرات کو امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات میں ’’ پیشہ وارانہ امور پر خاطر خواہ سود مند‘‘ بات چیت کی۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بات چیت نے انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کیا اور دونوں رہنماؤں نے مل جل کر خطے، پاکستان اور امریکہ کے لیے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنیسیوں کے درمیان تعلقات اس وقت شدید کشیدہ ہوگئے تھے جب گزشتہ سال ایبٹ آباد میں پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت گاہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر مطلوب ترین القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ کارروائی کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ گزشتہ سال نومبر میں سلالہ کی ایک سرحدی چوکی پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پیدا ہوا۔ پاکستان نے اس کے ردعمل میں افغانستان میں تعینات امریکہ اور اتحادی افواج کے لیے اپنی سرزمین کے راستے رسد اور دیگر اشیاء کی فراہمی معطل کردی۔

جولائی کے اوائل میں پاکستان نے نیٹو سپلائی لائنز بحال کردی تھیں جب کہ اسی ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان راولپنڈی میں اس سلسلے میں پہلے باضابطہ تحریری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG