رسائی کے لنکس

دورہِ امریکہ ملتوی کرنے کی وجہ ’مصروفیات‘


جنرل ظہیر الاسلام اور پاکستانی وزیراعظم گیلانی (فائل فوٹو)

جنرل ظہیر الاسلام اور پاکستانی وزیراعظم گیلانی (فائل فوٹو)

پاکستان کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اُس کے جاسوسی کے ادارے، آئی ایس آئی، کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے اندرون ملک ضروری مصروفیات کے باعث امریکہ کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں اس فیصلے پر کی جانے والی قیاس آرائیوں کی طرف بظاہر اشارہ کرتے ہوئے فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے امریکی ’’دورے کے التوا کی کوئی اور وجہ نہیں ہے‘‘۔

جنرل ظہیر الاسلام نے اس سال مارچ میں آئی ایس آئی کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کے لیے اُنھیں رواں ہفتے امریکہ جانا تھا مگرعین وقت پر اُنھوں نے یہ دورہ ملتوی کر دیا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہےجب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ سلالہ حملے کے بعد نیٹو کو رسد کی فراہمی پرعائد پابندی ہے جو چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی برقرار ہے۔

لیکن القاعدہ کے مفرور رہنما اُسامہ بن لادن تک پہنچنے میں امریکی سی آئی اے کی مدد کرنے پر خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گزشتہ ہفتے ایک قبائلی عدالت کی جانب سے ملک سے غداری کے الزام میں 33 سال قید کی سزا کے فیصلے نے پاک امریکہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

القاعدہ کی قیادت کے خاتمے میں ڈاکٹر آفریدی کے کردار کو امریکہ میں سراہا اور انھیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے اس لیے امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے ارکان نے سزا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اُس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید برآں امریکی سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی ڈاکٹر آفریدی کی سزا کے ہر سال کے بدلے پاکستانی کو دی جانے والی مالی امداد سے دس لاکھ ڈالر کی کٹوتی کی منظور بھی دی چکی ہے جو کل 33 ملین ڈالر بنتی ہے۔

مبصرین کے خیال میں ان حالات میں اگر آئی ایس آئی کے سربراہ امریکہ جاتے تو یقینی طور پر ڈاکٹر آفریدی کا معاملہ دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر امریکی حکام کے ساتھ ان کی بات چیت کی اہمیت کو کم کر دیتا۔

پاکستان سلالہ حملے پر امریکہ سے معافی، ڈرون حملوں کی فوری بندش اور نیٹو قافلوں پر محصولات کا مطالبہ کر رہا ہے جو امریکی حکام کے لیے بظاہر قابل قبول نہیں۔

تاہم بعض دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ چینی وزیر خارجہ ینگ جی چی ان دونوں سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں اور بظاہر آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا دورہ امریکہ موخر کرنے کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ چینی وفد میں چین کے خفیہ ادارے کے اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان گہرے سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں جب کہ چینی خطے شن جیانگ میں مسلمان ایغورعلیحدگی پسندوں کا سرکچلنے کی کوششوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی بھی چینی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG