رسائی کے لنکس

شام: داعش نے پلمیرہ میں آثار قدیمہ کے ماہر کا سر قلم کردیا


خالد اسعد (فائل)

خالد اسعد (فائل)

ذرائع کے مطابق، خالد اسعد نے 50 برس تک شہر کے 2000 برس پرانے آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے انتھک کام کیا جو ’یونیسکو‘ کے عالمی ورثے کا ایک یادگار مقام ہے۔ برطانیہ میں قائم ’سیرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ اسعد پلمیرہ کے ایک کھلے چوک پر درجنوں لوگوں کی نظروں کے سامنے قتل ہوئے

شام میں داعش کے شدت پسندوں نےپلمیرہ میں نوادرات کے تحفظ سے وابستہ ایک سابق سربراہ کا سر قلم کردیا ہے۔ آثار قدیمہ کے نادر خزانے کے باعث پلمیرہ کو دنیا بھر میں قدیمی شہر ہونے کا شہرہ ہے، جس شہر پر شدت پسندوں نے تین ماہ قبل قبضہ جما لیا تھا۔

پلمیرہ کے نوادرات کے تحفظ پر تعینات ڈائریکٹر، معمون عبدالکریم نے کہا ہے کہ ادارے کے 82 برس کے پیش رو، خالد اسعد کو منگل کے روز ہلاک کیا گیا۔ اُنھوں نے 50 برس تک شہر کے 2000 برس پرانے آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے انتھک کام کیا، جو ’یونیسکو‘ کے عالمی ورثے کا ایک یادگار مقام ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ اسعد پلمیرہ کے ایک کھلے چوک پر درجنوں لوگوں کی نظروں کے سامنے قتل ہوئے۔

دولت اسلامیہ نے مئی میں پلمیرہ پر قبضہ حاصل کیا، جس سے اِس شہر کی نوادرات کے تحفظ کے سلسلے میں فکرمندی بڑھی، چونکہ شدت پسند نادر تاریخی نمونوں کو تباہ کرنے میں نام کما چکے ہیں، جنھیں وہ بت پرستی خیال کرتے ہیں۔

اب تک پلمیرہ کو دیگر تاریخی مقامات کی طرز پر لوٹ مار کا شکار نہیں بنایا گیا، لیکن شدت پسندوں نے گذشتہ جون میں یونیسکو کے اِس تاریخی مقام کے گرد بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔

شدت پسندوں کی جانب سے پلمیرہ کو زیرِ تسلط میں لانے سے قبل، عبدل الکریم نے بتایا تھا کہ اس مقام پر قائم ایک میوزئم کو بروقت خالی کرکے وہاں موجود تمام نوادرات کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG