رسائی کے لنکس

مقامی میڈیا کراچی میں داعش سے متعلق وال چاکنگ کے بارے میں خبروں کو نمایاں کوریج دے رہا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر ان خبروں کو نشر کیا گیا، تو سوشل میڈیا میں بھی ان پر گرما گرم بحث چھڑ گئی

کراچی کی دیواروں پر عراق اور شام سے تعلق رکھنے والی عسکری تنظیم ’آئی ایس آئی ایس‘ کے حق میں اچانک وال چاکنگ ہونے پر، شہریوں میں ایک انجانا خوف پایا جاتا ہے۔

آئی ایس آئی ایس ۔۔’اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ شام‘۔۔کا مخفف ہے۔ اسے ’دولت اسلامیہ فی العراق و الشام‘ یعنی ’داعش‘ بھی کہا جاتا ہے۔

’داعش‘۔۔گزشتہ دو دنوں سے یہ نام اچانک کراچی کی دیواروں پر نمودار ہوا ہے۔ گو کہ ابھی یہ صرف سہراب گوٹھ، منگھو پیر،گلشن معمار اور سپر ہائی وے تک محدود نظر آتا ہے، جس سے خوف کا سا ماحول پیدا ہوا ہے۔

مقامی میڈیا بھی کراچی میں داعش کی وال چاکنگ سے متعلق خبروں کو نمایاں کوریج دے رہا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر ان خبروں کو نشر کیا گیا تو سوشل میڈیا میں بھی ان خبروں پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔

شہریوں میں اس خوف کی ایک وجہ بعض طالبان رہنماوٴں کی جانب سے داعش یا دولت اسلامیہ سے وفاداری کا حالیہ بیان بھی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اس تنظیم کے پانچ اہم کمانڈرز نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

داعش عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کرکے وہاں خلافت قائم کرنے کی خواہاں ہے۔ چنانچہ، کراچی میں اس نام کی وال چاکنگ نے لوگوں میں خوف پیدا کردیا ہے اور اکثر مقامات پر لوگ اس سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

داعش عراق اور شام میں حکومت مخالف سرگرمیوں اور تخریب کاری میں ملوث ہے، جبکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک اس کے خلاف ایک طرح کا ’اعلان جنگ‘ کر چکے ہیں، جس کے تحت، داعش کے خلاف فضائی حملے بھی کئے جاچکے ہیں۔

داعش کے کچھ رہنماوٴں نے تنظیم کا نیٹ ورک ایشیائی ممالک تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG