رسائی کے لنکس

شاہد ندیم کہتے ہیں کہ بامعنی ادب کے فروغ اور اسے سراہنے سے معاشرے میں متعصبانہ رویوں کو ختم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

ادب وثقافت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ فی زمانہ معاشرے کو درپیش مشکلات اور منفی سماجی رویوں کو ادب کے فروغ سے بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں تیسرے سالانہ ادبی میلے کے آغاز پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں نامور ادیب انتظار حسین کا کہنا تھا کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانی اقدار تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہیں ایسے ادبی میلوں کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔

"ہمیں تو یہی بتایا جاتا تھا کہ لوگ ادب نہیں پڑھتے خاص طور پر اردو ادب لیکن ایسے میلوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں ذوق و شوق ہے۔"

سہ روزہ ادبی میلے میں جہاں پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں سے ادب، ثقافت اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کی ایک بڑی تعداد شریک ہے وہیں مختلف سماجی اور ادبی معاملات پر سیر حاصل گفتگو اور مذاکرے بھی لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔

ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیے گئے میلے میں گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی کتابوں کے اسٹال لگائے گئے جہاں پر مقامی و بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والی کتابیں رکھی گئی ہیں۔

جڑواں شہروں میں رہنے والوں خصوصاً نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس میلے میں گھومتی نظر آئی۔

ڈرامہ نگاری کے ذریعے مختلف سماجی مسائل اور ان کے حل کے لیے توجہ مبذول کروانے والے شاہد ندیم کہتے ہیں کہ بامعنی ادب کے فروغ اور اسے سراہنے سے معاشرے میں متعصبانہ رویوں کو ختم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

جمعہ کو شروع ہونے والا یہ میلہ اتوار تک جاری رہے گا اور اس کا اہتمام کرنے والے ادارے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے مطابق اس میں لوگوں کو نہ صرف اپنے پسندیدہ شاعروں، ادیبوں اور مصنفین سے ملنے کا موقع ملے گا بلکہ دنیائے ادب کی اہم شخصیات سے دو بدو گفتگو بھی ان کی علمی تشنگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG