رسائی کے لنکس

ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز کی نظر بندی 'کالعدم'


ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

بھارت نے عدالتی فیصلے پر نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ طلب کر کے ان سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملزم کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گزشتہ سال 18 دسمبر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اسلام آباد کی انتظامیہ نے خدشہ نقض امن کے قانون کے تحت انھیں نظر بند کر دیا جس میں دو بار ایک، ایک ماہ کی توسیع کی گئی۔

جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ اگر ملزم کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

ذکی الرحمن لکھوی کو 2008ء میں بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی منصوبہ سازی کے الزام میں چھ دیگر افراد کے ہمراہ 2009ء میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جمعہ کو بھارت نے عدالتی فیصلے پر نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو وزارت خارجہ طلب کر کے ان سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ پاکستانی دفترخارجہ کی طرف سے تاحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذکی الرحمن لکھوی کی ممبئی حملوں میں ضمانت پر رہائی کا حکم سامنے آنے کے بعد بھارت نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جب کہ پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے لکھوی کی ضمانت کی منظوری کے خلاف اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

ممبئی حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بھارت اس کا الزام پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ وہ اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو سفارتی تناؤ کی شکل دنیا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لیکن مناسب یہی ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی عدالتوں کے فیصلوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔

بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عزیز احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے اور عدالتیں آزاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دونوں ملکوں کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے تو ایسے امور بھی اس میں زیر بحث آئیں گے۔

"یہ پیچیدہ مسائل ہیں، ان کا حل کرنا ضروری ہے اور یہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوں گے اور جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا تو اس پر بھی بات ہوگی۔"

گزشتہ دسمبر میں ہی ذکی الرحمن لکھوی کو اسلام آباد میں چھ برس قبل اغوا ہونے والے ایک شخص کے مقدمے میں بھی گرفتار کیا تھا لیکن اس پر بھی انھیں عدالت کی طرف سے ضمانت مل چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG