رسائی کے لنکس

وکلا کا کوئٹہ سانحے کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج


پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلا نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج بھی کیا۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں آٹھ اگست کو ہونے والے مہلک حملے میں وکلا کی اکثریت سمیت 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے خلاف اب بھی وکلاء تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔

پیر کو بھی پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلاء نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج بھی کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو اپنی جنگ قرار دے۔

’’ہمارے جو مطالبات ہیں وہ بڑے واضح ہیں ہم کہتے ہیں کہ سکیورٹی کے جو انتظامات ہیں، جس طرح اسپتال ہوتے ہیں، اسکول ہوتے ہیں، عدالتیں ہیں ان کے لیے کیے جانے والے انتظامات ہمارے ساتھ شیئر کریں جو مجرم ہیں ان کو پکڑیں ۔۔۔۔‘‘

علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے مطالبات تسلیم نا کیے گئے تو وہ ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

’’ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف اس کا حق ملکیت پارلیمنٹ میں لے اور اس کے تحت جو کومبنگ آپریشن ہے وہ پورے پاکستان میں چلائیں یہ ہم پارلیمنٹ کو کہہ رہے ہیں کہ پہلے ہم نے حکومت کو کہا تھا، اب اگر پارلیمنٹ بھی ہماری بات نہیں سنے گی تو آٹھ ستمبر کو ہم ملک بھر میں تحریک چلائیں گے یہ ہم نے فیصلہ کیا ہے۔‘‘

پارلیمنٹ سامنے احتجاج کرنے والے وکلاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے جن پر وکیلوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات درج تھے۔

واضح رہے کہ سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے میں مارے جانے والوں میں اکثریت وکلا کی تھی۔ بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کانسی کے قتل کے بعد وکیل جب بڑی تعداد میں سول اسپتال کوئٹہ پہنچے تو وہاں ایک خودکش بمبار نے اُن میں شامل ہو کر دھماکا کر دیا تھا۔

وکلا تنظیموں کی طرف سے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے سبب امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے لیکن دہشت گردی کے واقعات پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

کوئٹہ حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور صوبے بھر میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کو تلاش کر کے اُنھیں ختم کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کی گئیں۔

XS
SM
MD
LG