رسائی کے لنکس

اسلام آباد سے مبینہ خودکش بمباروں سمیت 59 افراد گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس کے مطابق ہفتہ کو طلوع آفتاب سے قبل کی گئی اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں بارودی مواد اور اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترنول میں پولیس اور رینجرز نے ایک مشترکہ کارروائی میں کم از کم 59 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جن میں دو مبینہ خودکش بمبار بھی بتائے جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہفتہ کو طلوع آفتاب سے قبل کی گئی اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں بارودی مواد اور اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ایک سپریٹنڈنٹ رضوان گوندل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ جس مقام پر چھاپہ مارا گیا وہاں سے بم دھماکوں کے لیے استعمال ہونے والے ’ڈیٹونیٹرز‘ سمیت دیگر آتش گیر مواد بھی برآمد ہوا۔

’’190 کلو بارودی مواد ہمیں ملا ہے۔۔۔۔ حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے۔‘‘

رینجرز کے کرنل امان اللہ نے کہا کہ شدت پسند بارودی مواد کو کسی بڑی تخریبی کارروائی میں استعمال کر سکتے تھے۔

گزشتہ ہفتے ہیں اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک بڑے سرچ آپریشن کے دوران ایک سو سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اُدھر پشاور میں کسٹمز حکام نے بھی ایک کنٹینر میں چھپایا گیا بارودی مواد قبضے میں لیا ہے۔

پشاور ہی کے مضافات میں ہفتہ کی صبح فائرنگ کے تبادلہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جب کہ دو شدت پسند مارے گئے۔ جھڑپ میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

حکام کے مطابق پولیس کے اہلکار پشتخرہ کے علاقے میں معمول کی گشت پر تھے کہ مسلح افراد نے اُن کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

پشاور میں پولیس پر اس سے قبل بھی مہلک حملے ہوتے رہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک اُن کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG