رسائی کے لنکس

فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت پر زور

  • سارہ رضوی

دیہی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ ایک نمائش کا افتتاح وزیر اعظم گیلانی کی صاحبزادی فضہ گیلانی کررہی ہیں۔

دیہی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ ایک نمائش کا افتتاح وزیر اعظم گیلانی کی صاحبزادی فضہ گیلانی کررہی ہیں۔

15 اکتوبر کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی دیہی خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی منعقد کردہ تقاریب میں ملک کے دیہی علاقوں میں آباد خواتین کو درپیش مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

ملکی معیشت بالخصوص زراعت کے شعبے میں دیہی خواتین کے بھرپور کردار پر ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر سے خواتین نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا نے کہا کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے اور وہاں مقیم خواتین ناصرف مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں بلکہ مال مویشیوں کی دیکھ بھال میں بھی ان کے کردار کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

زرعی معیشت میں خواتین کے بھرپور کردار کے باوجود انھیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کے حصول میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ گاؤں کی سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی پاکستان میں سربراہ ایلس ہارٹینگ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سرکاری اداروں بالخصوص خواتین کی فلاح کے لیے قائم شعبوں میں عورتوں کی نمائندگی ضروری ہے۔

’’خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں آگے لایا جائے اور تمام خواتین کو ملک کی ترقی میں اپنے کردار ادا کرنے کا مواقع فراہم کرنے کی ضروت ہے۔‘‘

دیہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم گیلانی نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ زرعی شعبوں میں خواتین کے اہم کردار کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی سطح پر خواتین سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک سے حکومت بخوبی آگاہ ہے اور ضمن میں قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG