رسائی کے لنکس

ہزاروں کی تعداد میں پولیس، فرنٹئیر کانسٹیبلری اور رینجرز کے دستے منگل کی شام سے بدستور چوکس ہیں۔ تاحال کوئی کارروائی تو نہیں کی گئی لیکن اس وقت بھی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت سے کچھ فاصلے پر دھرنا دیئے مظاہرین حکومت کے انتباہ کے باوجود بدھ کو بھی بدستور احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور بظاہر وہ علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

دوسری جانب ہزاروں کی تعداد میں پولیس، فرنٹئیر کانسٹیبلری اور رینجرز کے دستے منگل کی شام سے بدستور چوکس ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل پر سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کے حامیوں کو منگل کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دھرنا ختم کرنے کے لیے دو گھنٹے کی مہلت دی تھی، جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے رات گئے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر صبح ہونے تک مظاہرین یہاں سے نا گئے تو بدھ کو کارروائی کر کے اُنھیں وہاں سے ہٹایا جائے گا۔

تاحال کوئی کارروائی تو نہیں کی گئی لیکن اس وقت بھی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

مظاہرین بظاہر اسلحے سے لیس تو نہیں ہیں لیکن اُن کے پاس ڈنڈے ضرور ہیں۔

واضح رہے کہ توہین مذہب کے جرم میں ذیلی عدالت سے سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے اُس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے جیل ملاقات کی تھی اور ملک میں توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کے حق میں بیان دیا تھا۔

اُن کے اسی بیان پر سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ممتاز قادری نے گولیاں مار کر گورنر پنجاب کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس جرم پر عدالتی کارروائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ممتاز قادری کو گزشتہ ماہ پھانسی دی گئی تھی۔

اتوار کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ممتاز قادری کے چہلم کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا۔

اُنھیں پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے اورآنسو گیس استعمال کر کے روکنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

گزشتہ اتوار کو صورت میں کشیدگی کے بعد حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے ’ریڈ زون‘ کی حفاظت کے لیے فوج کو طلب کر لیا تھا۔

مظاہرین کے مطالبات میں شامل ہے کہ حکومت آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کے علاوہ توہین مذہب کے قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم نا کرنے کی یقین دہانی کروائے۔

وفاقی دارالحکومت میں یہ صورت حال اُسی روز پیدا ہوئی جب اتوار کی شام لاہور میں ایسٹر کے موقع پر خودکش بم حملے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔

ملک میں ایک طرف لاہور حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں اور درجنوں مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے تو دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے ایک حساس علاقے سے مظاہرین کو ہٹانا حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔

مظاہرین کو طاقت کے استعمال کے ذریعے ہٹانے سے قبل حکومت کی یہ کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔

اس لیے ’ڈیڈ لائن‘ ختم ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں اور مظاہرین کے قائدین کے درمیان رابطے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

XS
SM
MD
LG