رسائی کے لنکس

داعش نے اکثر ہتھیار عراق میں حاصل کیے: ایمنسٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایمنسٹی نے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں ہر قبضہ کرنے کے کئی واقعات میں داعش کی مدد کا الزام عراقی حکومت کی بدعنوانی اور اسلحے کے ذخائر کی کمزور نگرانی پر عائد کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ داعش کی طرف سے کی گئی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے اکثر ہتھیار عراقی فوج کے ذخائر سے حاصل کیے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدم استحکام کے شکار علاقوں میں ہتھیار بھیجنے سے قبل مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔

ایمنسٹی نے آسٹریلیا میں قائم ’آرمامنٹ ریسرچ سروسز‘ نامی تنظیم کو عراق اور شام میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے جائزے پر ایک رپورٹ کی تیاری کا کام سونپا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہتھیاروں کا تعلق کم از کم 25 ممالک سے ہے۔ ان میں سب سے زیادہ ہتھیار امریکہ، روس اور سابق سوویت ریاستوں سے آئے۔

ایمنسٹی میں ہتھیاروں کے کنٹرول، تجارت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے محقق پیٹرک ولکنز نے کہا کہ ’’داعش کہلانے والی تنظیم کی طرف سے بڑے پیمانے پر مختلف قسم کے اسلحے کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ہتھیاروں کی غیر محتاط تجارت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔‘‘

’’کمزور ضوابط اور کئی دہائیوں سے عراق میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی ترسیل کی نگرانی کے فقدان سے داعش اور دیگر مسلح گروہوں کو اسلحے تک غیر معمولی رسائی ملی۔‘‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں اور امریکہ نے داعش کے جنگجوؤں پر جنسی زیادتی، تشدد، اغوا اور قتل جیسی بدسلوکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ گزشتہ سال داعش کی طرف سے وسیع علاقوں پر قبضے کے بعد مشرقی شام اور شمالی اور مغربی عراق سے ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایک پینل نے اطلاع دی ہے کہ اس گروہ نے اپنے اکثر ہتھیار جون 2014 کے بعد حاصل کیے۔

ایمنسٹی نے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں ہر قبضہ کرنے کے کئی واقعات میں داعش کی مدد کا الزام عراقی حکومت کی بدعنوانی اور اسلحے کی ذخائر کی کمزور نگرانی پر عائد کیا ہے۔

سب سے زیادہ ہتھیار عراقی فوج سے حاصل کیے گئے مگر شامی فوج اور مغربی ممالک سے ہتھیار وصول کرنے والے حکومت مخالف گروہوں سے بھی ہتھیار قبضے میں لیے گئے۔

ایمنسٹی نے شامی حکومت اور جنگی جرائم میں ملوث کسی بھی گروہ کو ہتھیاروں کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ہتھیار فروخت کرنے والے کسی بھی ملک کو ہتھیاروں کی ترسیل سے پہلے اور بعد میں نگرانی پر کام کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG