رسائی کے لنکس

ویڈیو میں ایک نقاب پوش انگریزی زبان میں یہ پیغام دے رہا تھا کہ جاپانیوں کے پاس 72 گھنٹے کی مہلت ہے کہ وہ 20 کروڑ ڈالر تاوان ادا کریں۔ وڈیو میں دو افراد کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا ہے جن کے ساتھ ایک نقاب پوش خنجر تھامے کھڑا ہے۔

شام اور عراق کے مختلف حصوں پر قابض شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کی طرف سے منگل کو انٹرنیٹ پر ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں یرغمال بنائے گئے دو جاپانی شہریوں کی رہائی کے لیے اُن کے ملک سے 20 کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔

وڈیو میں دو افراد کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا ہے جن کے ساتھ ایک نقاب پوش خنجر تھامے کھڑا ہے۔

نقاب پوش انگریزی زبان میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ جاپان 72 گھنٹوں میں یہ رقم ادا کرے "بصورت دیگر یہ خنجر تمہارے لیے ڈراؤنا خواب بن جائے گا۔"

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد میں براہ راست جاپان کی فورسز شامل نہیں ہیں۔ تاہم جاپان کے وزیراعظم نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کرنے والے ممالک کے لیے غیر فوجی امداد کی مد میں 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد میں شامل ممالک شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف اب تک 1700 سے زائد فضائی کارروائیاں کر چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نقاب پوش نے اپنے پیغام میں جاپانی وزیراعظم کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "گو کہ تم دولت اسلامیہ سے ساڑھے آٹھ ہزار کلومیٹر دور ہو، تم اس لڑائی میں رضاکارانہ طور پر شریک ہونے پر آمادہ ہوئے۔‘‘

وڈیو میں دکھائے گئے یرغمالیوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ان میں سے ایک صحافی کینجی گوٹو ہے جب کہ ہارونا یوکاجا ایک پرائیویٹ ملٹری کنٹریکٹر ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس وڈیو کے مصدقہ ہونے سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے گزشتہ سال عراق اور شام متعدد علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کر دیا تھا جب کہ وہاں آباد خاص طور پر اقلیتوں کے قتل عام کے علاوہ متعدد غیر ملکیوں کو یرغمال بنایا۔

یہ گروپ امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چند یرغمالیوں کا سر قلم کر کے اس کی وڈیو بھی جاری کر چکا ہے۔

امریکہ نے اس گروپ کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG