رسائی کے لنکس

عراق و شام میں نقصانات کے بعد لیبیا میں داعش کی بڑھتی تعداد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گوکہ عراق اور شام میں داعش کے شدت پسندوں میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن یہ گروپ لیبیا میں اپنی تعداد بڑھا رہا ہے۔

شدت پسند گروپ داعش کے جنگجووں کی تعداد کے بارے میں بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام اور عراق میں کم ہوئی ہے لیکن اس گروپ کی بین الاقوامی حکمت عملی بدستور تشویش کا امر ہے۔

وائٹ ہاوس نے جمعرات کو بتایا کہ تازہ ترین اندازوں کے مطابق عراق اور شام میں داعش کے جنگجووں کی تعداد 19 ہزار سے 25 ہزار کے درمیان ہے۔

قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایمیلی ہورن کے مطابق "جب سے ہم نے اس گروپ کی افرادی قوت کا جائزہ لینا شروع کیا ہے یہ اس کی سب سے کم تعداد ہے۔"

اس سے قبل لگائے گئے اندازوں میں یہ تعداد 20 سے 30 ہزار کے درمیان تھی جس میں 17500 سخت گیر انتہا پسند ارکان بھی شامل تھے۔

سامنے آنے والی نئی تعداد کی وجوہات میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن میں میدان جنگ میں لڑائی اور نئے لوگ بھرتی کرنے میں کسی قدر ناکامی بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ کہتے ہیں کہ "داعش بدستور ایک خطرہ رہے گا، لیکن اس کی شدت میں کمی آئی۔ داعش کو اپنے عہدوں پر تقرریوں کے لیے پہلے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔"

امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق اور شام میں 2014ء میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جس میں ہزاروں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس شدت پسند گروپ میں ہر ماہ لگ بھگ ایک ہزار جنگجو دوسرے ملکوں سے آکر شامل ہو رہے ہیں جن میں اکثریت ترکی سے شام میں داخل ہو رہی ہے۔

گو کہ عراق اور شام میں داعش کے شدت پسندوں میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن یہ گروپ لیبیا میں اپنی تعداد بڑھا رہا ہے۔

پینٹاگان کے حکام نے جمعرات کو تصدیق کی کہ لیبیا میں داعش کے جنگجووں کی تعداد اندازے کے مطابق پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس تعداد میں حکام کے بقول کلیدی عسکری کمانڈر اور عہدیدار بشمول ابو علی الانباری بھی شامل ہیں۔ الانباری داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے برارہ راست رابطے میں رہا ہے۔

تاہم جمعرات کو ترجمان جوش ارنسٹ نے اس خطرے سے متعلق تشویش کو قدرے کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ خطرناک ہے لیکن اس کی نوعیت" عراق اور شام کی خودساختہ خلافت سے مختلف ہے۔

"ہم اس پر نظر رکھے رہے گے کہ لیبیا میں یہ خطرہ کس طرح پنپتا ہے اور ہم اس کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔"

XS
SM
MD
LG