رسائی کے لنکس

داعش کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں: سی آئی اے


داعش کے جنگجو شام کے شہر رقہ میں مارچ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

داعش کے جنگجو شام کے شہر رقہ میں مارچ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ داعش مغربی ممالک کو کیمیائی مادے بیچنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

امریکہ کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ شام میں داعش کے جنگجوؤں نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

جان برینن نے کہا کہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جب اس شدت پسند گروہ نے ’’میدان جنگ میں کیمائی ہتھیار‘‘ استعمال کیے۔

ان کے اس بیان کے اقتباسات ایک ٹیلی وژن پروگرام ’60 منٹ‘ میں دکھائے گئے۔ جان برینن کا مکمل انٹرویو اتوار کو ’سی بی ایس‘ چینل پر دکھایا جائے گا۔

برینن نے بتایا کہ داعش قلیل مقدار میں کلورین اور مسٹرڈ گیس بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ داعش مغربی ممالک کو کیمیائی مادے بیچنے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ان کے بقول ’’اس کا ہمیشہ امکان رہے گا۔‘‘

کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم نے 2013 میں دمشق کے قریب ہونے والے سارن کیمیائی مادے کے حملے کے بعد شامی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کی تھی۔ عالمی برادری نے اس حملے کا الزام صدر بشارالاسد کی حکومت پر عائد کیا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم نے خبردار کیا ہے شام میں ممنوعہ کیمیائی جنگ اس واقعے کے بعد بھی جاری ہے اور اس میں شام کی جنگ کے اکثر فریقین شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG