رسائی کے لنکس

داعش نے وسطی شام میں متعدد افراد کو ہلاک کیا: رپورٹ


فائل فوٹو

شام میں شدت پسند گروپ داعش نے اطلاعات کے مطابق حکومت کے زیر کنٹرول دو دیہات پر جمعرات کو اچانک حملہ کر کے 50 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا۔

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے گروپ 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق داعش کے جنگجوؤں اور شامی حکومت نواز فورسز کے درمیان العقرب اور المبعوجہ کے دیہات میں ہونے والی لڑائی کے نتیجہ میں 15 عام شہری اور 27 حکومت نواز فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ داعش کے 15 جنگجو مارے گئے یا زخمی ہوئے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 52 ہے جس میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ داعش کے عسکریت پسند دیہاتیوں پر تشدد کر رہے ہیں اور لوٹ مار کر رہے ہیں۔

اس علاقے کی ایک سیاسی سرگرم کارکن مہر ایسبر نے وی او اے کو بتایا کہ "میرے ایک دوست کے چاروں بچوں کو داعش نے قتل کر دیا ہے۔۔۔ میں یہ نہیں جانتا کہ کیا میرا دوست زندہ ہے لیکن میں نے بچوں کی لاشوں کو دیکھا ہے۔"

ایسبر نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ سرکاری فورسز کی طرف سے داعش کے زیر کنٹرول ایک گاؤں میں لوگوں کو ہلاک و زخمی کرنے کے بعد شدت پسند گروپ یہ کارروائیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کی سرکاری فورسز نے اس گاؤں پر بمباری کی، جس کی وجہ سے کئی عام شہری ہلاک ہو گئے۔

داعش نے یہ حملہ جمعرات کو الصبح کیا اور اس دوران انہوں نے سرکاری فورسز کی چوکیاں پر گولہ باری کی۔

ایسبر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سرکاری فورسز یہ سمجھتے ہوئے کہ داعش کمزور ہو گئی اس علاقے سے واپس چلی گئی تھیں۔

ایسبر نے کہا کہ "شامی فوج نے اس علاقے سے اپنے ٹینک دوسری جگہ منتقل کر دیئے تھے ۔۔۔ داعش کے (جنگجو) اس چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس علاقے میں گھس آئی۔"

داعش نے مارچ 2015 میں بھی المبعوجہ پر حملہ کیا تھا جس میں 37 افراد ہلاک ہوئے۔

داعش کو شمالی شام میں اس کے گڑھ رقہ پر امریکہ کی حمایت یافتہ شامی کرد اور عرب فورسز کی طرف سے بڑی کارروائی کا سامنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG