رسائی کے لنکس

داعش زیر قبضہ علاقوں سے محروم ہوئی لیکن جنگ نہیں ہاری


عراقی انسداد دہشت گردی کا ایک اہلکار داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگنے والے افراد سے بات کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

عراقی انسداد دہشت گردی کا ایک اہلکار داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگنے والے افراد سے بات کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے حکام کا خیال ہے کہ عراق اور شام میں زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں اور داعش کی فنڈنگ اور غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد میں سست روی میدان جنگ میں نظر آ رہی ہے۔

شام اور عراق میں علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے میں ناکامی کے بعد داعش کے شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر کے علاقائی اور عالمی سطح پر زیادہ جانی نقصان کرنے والے چھوٹے حملے کرنے شروع کیے ہیں۔

اگرچہ مصدقہ اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے مگر مقامی اندازوں کے مطابق 8 سے 14 مارچ تک صرف ایک ہفتے کے دوران اس قسم کے حملوں میں 400 شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

سلیمانیہ میں کرد پیش مرگہ کے انسداد دہشت گردی کے کمانڈر پولاد جنگی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ داعش کو شہروں سے باہر دھکیلنے سے اس کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش عراق میں القاعدہ سے ابھری ہے اور سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کے دور کے فوجی افسران پر مشتمل ہے۔ اسے باہر دھکیلنے سے یہ اپنی سابق باغیانہ حکمت عملی اپنا لے گی۔

’’ان کے سلیپر سیل ہوں گے۔ وہ بم دھماکے کریں گے، اغوا اور قتل کریں گے۔ یہ مستقل ہو گا۔ یہ رکے گا نہیں۔‘‘

امریکہ کے انسداد دہشت گردی حکام کا بھی خیال ہے کہ عراق اور شام میں زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں اور داعش کی فنڈنگ اور غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد میں سست روی میدان جنگ میں نظر آ رہی ہے جہاں یہ شدت پسند تنظیم اب روایتی فوج کی طرح نہیں لڑ رہی۔

دیگر حکام کا کہنا ہے کہ داعش کی تیل کی تنصیبات اور رقوم کے ذخائر پر امریکی اور اتحادی فضائی کارروائیوں کے باعث اس تنظیم نے تنخواہوں میں کمی کی ہے جس سے جنگجوؤں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔

تاہم حکام نے متنبہ کیا کہ صرف ایسے دھچکوں سے اس تنظیم کا خاتمہ نہیں ہو گا۔

ایسے خدشات بھی ہیں کہ دباؤ بڑھنے سے کچھ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جن سے یہ تنظیم مزید سخت جان ہو سکتی ہے اور اسے شکست دینا اور بھی مشکل ہو گا۔

XS
SM
MD
LG