رسائی کے لنکس

داعش کے بعد کا موصل


داعش کے جانے کے بعد موصل میں رضاکار شہر کی صفائی کررہے ہیں۔ 30 جنوری 2017

یونیورسٹی کے احاطے میں فرشوں پر کتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیں اور دوسری منزل پر واقع کیفے ٹیریا کی دیواریں فضائی حملوں اور آتش زدگی سے سیاہ پڑ چکی ہیں۔ ہال میں ادھ جلی میزیں اور کرسیاں بکھری پڑی ہیں۔

سن 2014 میں جب اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں نے موصل پر قبضہ کیا تو وہ’ یونس بلیئرڈ ہال‘میں داخل ہوئے اور ہال کے مالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل کو غیر اسلامی ہے ۔ پھر وہ بلیئرڈ کی گیندیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

یونس بلیئرڈ ہال جو عموماً آدھی رات تک کھیلنے والوں سے بھر رہا کرتا تھا ویران ہوگیا اور بلیئرڈ کی میزیں گرد سے اٹ گئیں۔

حال ہی میں عراقی فورسز نے داعش کے عسکریت پسندوں کو مشرقی موصل سے باہر نکال دیا ہے اور اب وہ شہر کے مغربی حصے پر حملے کی تیاری کررہی ہیں۔

اگرچہ یونس بہت سے دوسرے کاروباری افراد کی طرح عسکریت پسندوں کے جانے پر خوش ہے لیکن اسے اپنا بلیئرڈ ہال دوبارہ سے آباد کرنے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا پڑ رہا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ نے عراق کے اس دوسرے سب سے بڑے شہر میں اپنی حکومت قائم کرنے اور اسے اپنا دارالحکومت بنانے کے بعد وہاں اپنی طرز کا انتہاپسندانہ اسلام نافذ کیا، جس میں سگریٹوں، ٹیلی وژن اور ریڈیو پر پابندی اور مردوں کے لیے داڑھی رکھنا اور عورتوں کے برقعہ پہننا ضروری تھا۔

یونس نے نامہ نگار کو بتایا ۔ مجھے گذر أوقات کے لیے اپنی دو کاریں بیچنی پڑیں۔ اب مالک مکان مجھ سے دو سال کے کرایے کا تقاضا کر رہا ہے۔

اسی دوران کہیں دور دھماکے کی آواز سنائی دی ۔ دریائے دجله کے کنارے عراقی فورسز اور جہادیوں کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ دجله اس شہر کو، جو ایک اہم تجارتي مرکز اور اعلیٰ تعلیم کا گڑھ تھا، دو حصوں میں بانٹتا ہے۔

دھماکے کی آواز پر یونس اپنی تیوری چڑھا کر بولا کہ دھماکوں کی آواز وں سے میرے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان سے بلیئرڈ کی میزیں لرز جاتی ہیں اور توازن بگڑنے سے کھیلنا مشکل ہو جا تا ہے۔

لڑائیوں کی وجہ سے پہلے ہی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے۔

امریکی قیادت کے فضائی حملوں سے لا تعداد عمارتیں مهندم ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر گڑھ پڑ چکے ہیں۔ باقی ماندہ عمارتوں میں راکٹوں اور دوسرے گولوں سے سوراخ دور سے دکھائی دیتے ہیں۔

شہر میں اب بھی مارٹر گولے گر رہے ہیں اور توپوں کے گولوں سے زمین لرزنے لگتی ہے۔

یونس بلیئرڈ ہال کے قریب ہی موصل یونیورسٹی ہے۔ زیادہ عرصے کی بات نہیں ہے، موصل یونیورسٹی کا شمار مشرق وسطیٰ میں چوٹی کا تعلیمی مرکز کے طور پر کیا جاتا تھا۔

داعش کے کارندوں نے یونیورسٹی میں موجود تاریخی نوادرات اور قیمتی اشیا بیج ڈالیں اور فلاسفی کی تعلیم پر پابندی لگا کر اپنا تعلیمی نصاب نافذ کر دیا۔ جب عراقی فورسز یہاں پہنچیں تو جہادیوں نے یونیورسٹی کی زیادہ تر عمارتوں کو نذر آتش کر کے ملبے ڈھیر وں میں تبدیل کر دیا۔

یونیورسٹی کے احاطے میں فرشوں پر کتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیں اور دوسری منزل پر واقع کیفے ٹیریا کی دیواریں فضائی حملوں اور آتش زدگی سے سیاہ پڑ چکی ہیں۔ ہال میں ادھ جلی میزیں اور کرسیاں بکھری پڑی ہیں۔

یونیورسٹی کی عمارت کے قریب واقع بیکریاں اور ریستوران زیادہ تر ویران پڑے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ داعش کے دور میں انہیں سخت مشکلات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ عسکریت پسند اور ان کی بیویاں عموماً بندوقیں لے کر آ جاتی تھیں اور بندوق دکھا کر قیمت گھٹانے کا مطالبہ کرتی تھیں۔

ایک دکاندار قیصر احمد نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ نے اسے جیل میں ڈال کر چار مہینوں تک شديد تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے میرے ناخن تک کھینچ لیے تھے۔

دکانداروں کہناتھا کہ تشدد کا دور تو ختم ہوگیا ہے لیکن اب ہمیں اور طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے پاس پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی بجلی اور گاہک بھی کبھی کبھار ہی آتا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG