رسائی کے لنکس

داعش کا رمادی پر قبضے کا دعویٰ، عراقی فوج پسپا


شدت پسندوں نے رمادی کے بیشتر علاقے پر جمعے کو قبضہ کرنے کے بعد صوبائی حکومت کے دفاتر پر اپنا سیاہ پرچم لہرادیا تھا۔

شدت پسندوں نے رمادی کے بیشتر علاقے پر جمعے کو قبضہ کرنے کے بعد صوبائی حکومت کے دفاتر پر اپنا سیاہ پرچم لہرادیا تھا۔

عراقی سکیورٹی حکام کے مطابق بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد مشرقی ضلعے میں تعینات فوج کے باقی ماندہ دستے بھی اتوار کو پسپا ہوگئے ہیں جس کے بعد پورے شہر پر داعش کا قبضہ ہوگیا ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجووں نے عراق کے مغربی شہر رمادی کے نواح میں واقع ایک اہم فوجی چھاؤنی پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد پورا شہر شدت پسندوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

شدت پسندوں نے رمادی کے بیشتر علاقے پر جمعےکو قبضہ کرنے کے بعد شہر کے وسط میں قائم صوبائی حکومت کے دفاتر پر اپنا سیاہ پرچم لہرادیا تھا۔

لیکن شہر کا مشرقی ضلع بدستور عراقی حکومت کے کنٹرول میں تھا جہاں عراق کی اسپیشل فورسز کے دستے شدت پسندوں کی پیش قدمی کے خلاف سخت مزاحمت کر رہے تھے۔

عراقی سکیورٹی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد مشرقی ضلعے میں تعینات فوج کے باقی ماندہ دستے بھی اتوار کو پسپا ہوگئے ہیں جس کے بعد پورے شہر پر داعش کا قبضہ ہوگیا ہے۔

علاقے میں تعینات عراقی فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد فوجی دستے شہر کے مغربی کنارے پر واقع اس فوجی چھاؤنی سے بھی نکل گئے ہیں جہاں سے رمادی میں عراقی فورسز کی داعش کے خلاف مزاحمتی کارروائی کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔

داعش نے اتوار کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں چھاؤنی پر قبضے اور ٹینکوں سمیت وہاں موجود بھاری اسلحہ تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس سے قبل چھاؤنی میں موجود ایک فوجی افسر نے ٹیلی فون کے ذریعے صحافیوں کوبتایا ہے کہ شدت پسند چھاؤنی کو گھیر چکے ہیں اور اب مزید فوجی کمک بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

افسر نے بتایا تھا کہ جنگجو چھاونی کے جنوبی دروازے سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے چھاؤنی میں موجود باقی ماندہ فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کی پیش کش کر رہے ہیں۔

فوجی افسر کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی پیش قدمی کے باعث چھاؤنی میں موجود فوجی اہلکار مغرب کی جانب پسپا ہورہے ہیں تاکہ کسی محفوظ علاقے تک پہنچا جاسکے۔

داعش کی پیش قدمی کے خلاف عراقی سکیورٹی فورسز اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کی جانب سے گزشتہ سال شروع ہونے والی کارروائی کے بعد کسی بڑے عراقی شہر کے شدت پسندوں کے قبضے میں جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

دریائے فرات کے کنارے آباد رمادی دارالحکومت بغداد سے 110 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے اور عراق کے سنی اکثریتی اور سب سے بڑے صوبے الانبار کا دارالخلافہ اور مرکزی شہر ہے۔

اس سے قبل عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے رمادی میں تعینات فوجی دستوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے مورچوں پر ڈٹے رہیں اور داعش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

الانبار کی صوبائی کونسل کے ایک رکن اثل فہداوی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ رمادی پر حکومتی کنٹرول "مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے" اور مقامی حکام نے داعش کو صوبے کے باقی ماندہ علاقوں کی جانب پیش قدمی سے روکنے کے لیے مرکزی حکومت سے شہر کے گرد و نواح میں شیعہ ملیشیاؤں کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔

صوبائی کونسل کی منظور کے بعد وزیرِاعظم العبادی نے عراقی سکیورٹی فورسز کی مدد کےلیے شیعہ ملیشیاؤں کے دستے رمادی کے نواحی علاقوں میں تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

عراق میں داعش کے خلاف قائم کی جانے والی شیعہ ملیشیاؤں نے رواں سال کے آغاز سے شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے اور بعض علاقوں سے انہیں پسپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لیکن فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشے کے پیشِ نظر اب تک ان ملیشیاؤں کو سنی اکثریتی صوبے الانبار سے دور رکھا گیا تھا جس کا بیشتر علاقہ گزشتہ کئی ماہ سے داعش کے قبضے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG