رسائی کے لنکس

داعش حیاتیاتی و جوہری مواد حاصل کرنے کے لیے کوشاں: حکام کا انتباہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بڑھتی ہوئے سلامتی کے خطرات کے لیے نیٹو کے نائب معاون سیکرٹری جنرل جیمی شے کا کہنا تھا کہ "ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد یہ مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

یورپ کے انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند گروپ داعش کے عسکریت پسند ابتدائی طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے حیاتیاتی اور جوہری مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لندن میں ہونے والی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کانفرنس میں منگل کو ان کا کہنا تھا کہ داعش کارروائی کے مقاصد کے لیے دو حصوں میں بٹ سکتی ہے جن میں سے ایک حصہ گروپ کی شام و عراق میں قائم نام نہاد خلافت کا تحفظ کرے گا اور دوسرا حصہ مغرب میں دہشت گرد حملوں کے لیے مختص ہو گا۔

سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ داعش کے عسکریت پسندوں نے مغرب میں دہشت گرد حملوں کے لیے جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی مواد حاصل کرنے میں دلچپسی ظاہر کی تھی۔

بڑھتی ہوئے سلامتی کے خطرات کے لیے نیٹو کے نائب معاون سیکرٹری جنرل جیمی شے کا کہنا تھا کہ "ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد یہ مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

یورپی کمیشن میں انسداد دہشت گردی کے نائب سربراہ جارج برٹو سلوا نے کہا کہ اس بارے میں "واضح تشویش" موجود ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جرمن اور اطالوی انٹیلی جنس حکام نے خدشات کا اظہار کیا کہ داعش کے منصوبہ ساز گرمیوں میں بحیرہ روم کے سیاحتی مقامات پر خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اٹلی کے ایک سکیورٹی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان منصوبوں میں فرانسیسی، ہسپانوی اور اطالوی ساحلوں پر حملے شامل ہیں۔ ان کے بقول "ہمارا خیال ہے کہ وہ (دہشت گرد) دکانداروں کے روپ دھارنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔"

منگل کو ہسپانوی پولیس نے اعلان کیا کہ انھوں نے پالما دی مایورکا کے سیاحتی جزیرے سے ایک مراکشی شخص کو گرفتار کیا ہے اور اس پر شبہ ہے کہ وہ داعش کے لیے جنگجو بھرتی کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG