رسائی کے لنکس

داعش کا اہم کمانڈر امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد میں شامل


گل مراد خلیموف (فائل فوٹو)

گل مراد خلیموف (فائل فوٹو)

مغربی انٹلیجنس رپورٹوں کے مطابق گل مراد تاجکستان کی خصوصی فورسز کے سابق کرنل ہیں جنہوں نے امریکہ اور روس سے تربیت حاصل کی تھی۔

عراق و شام میں سرگرم انتہاپسند گروپ داعش سے منسلک ایک اعلی عہدیدار گل مراد خلیموف کو امریکہ نے دنیا کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

مراد گل جو تاجکستان فوج کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ہیں، وہ لوگوں کو داعش میں بھرتی کرنے کے ذمہ دار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے امریکہ نے تیس لاکھ ڈالر کے انعام کی پیشکش کی ہے۔

مغربی انٹلیجنس رپورٹوں کے مطابق گل مراد تاجکستان کی خصوصی فورسز کے سابق کرنل ہیں جنہوں نے امریکہ اور روس سے تربیت حاصل کی تھی، اب وہ داعش کی مسلح یونٹوں اور فوجی آپریشن کے انچارج ہیں۔

گزشتہ ہفتے داعش کے عسکریت پسند ابو محمد العدنانی کی ایک فضائی کارروائی میں ہلاکت کی تصدیق کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مراد گل کو داعش کے رہنما ابو بکر بغدادی کے بعد اعلیٰ ترین عہدے پر تعینات کر دیا گیا تھا۔

کانگرس کے ارکان کے لیے انسداد دہشت گردی کے مشیر مائیکل ایس سمتھ نے کہا کہ "یہ بات داعش کی قیادت کے اپنے گروپ سے متعلق اس خواہش کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ چاہیے کسی کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصے سے ہو وہ(داعش میں) اہم عہدوں کے لیے اہل ہو سکتے ہیں"۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گل مراد ایک بنیاد پرست اسلامی نظریے پر یقین رکھتا ہے۔

تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبے سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار اسفندیار ادینیہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "اپنے ایک وڈیو پیغام میں انہوں نے تاجک عہدیداروں پر مذہبی آزادی کو دبانے اور مسلمان افراد کو اپنی داڑھی منڈوانے اور خواتین پر پردہ نا کرنے پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا"۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک تاجک عسکریت پسند کمانڈر کے داعش میں ایک نمایاں کردار کی وجہ سے اس انتہا پسند گروپ کی کارروئیاں شام و عراق کے باہر بھی پھیل سکتی ہیں۔

وسط ایشیا سے عسکریت پسندوں کو بھرتی کرنے کے حوالے سے داعش کے لیے یہ ایک زرخیز خطہ ثابت ہوا ہے جس کے جنگجوؤں میں ایک بڑی تعداد ایشیائی افراد کی ہے جو عراق و شام میں سرگرم ہیں۔

روس بہت پہلے سے داعش کے بھرتی کرنے کی سرگرمیوں سے آگاہ ہے اور اسے اس بارے میں تشویش ہے کہ وسط ایشیا میں داعش کی موجودگی روس کی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG