رسائی کے لنکس

لیبیا: بن غازی کی فوجی چھاؤنی پر جنگجووں کا قبضہ


فائل

فائل

چھاؤنی لیبیا کی افواج کے اسپیشل دستے 'الصاعقہ بریگیڈ' کا مرکز تھی جس کے اہلکار جنگجووں کے تابڑ توڑ حملوں کے باعث پسپا ہوگئے ہیں

لیبیا میں سرگرم اسلام پسند جنگجووں نے سخت لڑائی کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں واقع ایک اہم فوجی چھاؤنی پر قبضہ کرلیا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق شدت پسندوں اور مقامی ملیشیاؤں کے جنگجووں کے پے در پے حملوں کے بعد فوجی دستے بن غازی کے جنوب مشرق میں واقع چھاؤنی سے پسپا ہوگئے ہیں۔

مذکورہ چھاؤنی لیبیا کی افواج کے اسپیشل دستے 'الصاعقہ بریگیڈ' کا مرکز تھی جس کے ترجمان نے 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے چھاؤنی پر اسلام پسند جنگجووں کے قبضے کی تصدیق کردی ہے۔

بن غازی کے حکا م کا کہنا ہے کہ اسلام پسند جنگجووں اور سرکاری افواج کے درمیان لڑائی میں پیر کی شب سے منگل کی صبح تک کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ بن غازی کے علاوہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بھی گزشتہ دو ہفتوں سے اسلام پسند باغی، قبائلی ملیشیائیں، جنگجو گروہ اور سرکاری فوجی دستے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔

حالیہ جھڑپیں2011ء میں اس وقت کے حکمران معمر قذافی کے خلاف ہونے والے عوامی بغاوت کے بعد سے اب تک لیبیا میں ہونے والی بدترین لڑائی ہے جس نے سیاسی عدم استحکام اور ابتری کا شکار اس افریقی ملک کو مزید بحران میں دھکیل دیا ہے۔

طرابلس کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے دو جنگجو گروہوں کے درمیان ہونے والے شدید جھڑپوں کے باعث اقوامِ متحدہ، امریکہ اور ترکی سمیت کئی ممالک نے دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے بند کرکے عملے کے افراد کو پڑوسی ممالک منتقل کردیا ہے۔

جنگجو گروہوں کی لڑائی کے باعث طرابلس کے نزدیک قائم تیل ذخیرہ کرنے کی سب سے بڑی ملکی تنصیب میں آگ لگ گئی جس کے باعث لاکھوں بیرل تیل ضائع ہوگیا ہے۔

تیل کے ذخیرے میں لگنےوالی آگ بجھانے کی کوششوں میں ناکامی کے باعث لیبیا کی حکومت نے اس ضمن میں بین الاقوامی برادری سے بھی مدد طلب کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے دارالحکومت کے بعض علاقوں کو بھی خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG