رسائی کے لنکس

اخبار کہتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں پائدار اور مستحکم امن کا قیام مقصُود ہے ۔ تو پھر فلسطینی اسرائیلی مناقشے کو حل کرنا ناگُزیر ہے۔ اور یہ حل دو مملکتوں کے قیام ہی سے ممکن ہے۔

جیسا کہ خبروں میں آپ نے سنا ہوگا ، اسرئیل نے غزہ کی پٹی پرراکٹ برسانے کی کاروائی جاری رکھی ہے۔ اور اپنی فوجیں، ٹینک، اور بکتر بند گاڑیاں فلسطینی علاقے کے قریب جمع کر دی ہیں،جس سے اشارہ ملتا ہے کہ برّی حملہ شاید قریب ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز

اس پر لاس اینجلس ٹائمزایک ادارئے میں لکھتا ہے کہ ایک صدی پرانا فلسطینی اسرائیلی قضیہ دوبارہ خبروں کا موضوع بن گیا۔ جب اس ہفتے حماس کے زیر قبضہ غزّہ کی پٹی پر بھر پُور حملے سے پہلے جنوبی اسرائیل پر ساڑھے سات سو فلسطینی راکٹ داغے گئے تھے۔ جن سےکوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا ، لیکن مالی نقصان ضرور ہوا، اورآبادی میں دہشت پھیل گئی ۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حماس کے فوجی لیڈر احمد جباری شامل ہیں۔ ایک اسرئیلی قصبے کٕریات ملاچی میں ایک عمارت پر فلسطینی راکٹ گرنے سے تین اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

دونوں فریقوں کو صبر و تحمل کا مشورہ دینے والوں میں صدراوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مُون شامل ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اسرائیل کو بلاشبہ اپنا دفاع کرنے کا پورا حق ہے، لیکن جوابی کاراوائی کرتے ہوئے اُسے یہ نہ بُھولنا چاہئے کہ چار سال قبل اس نے غزّہ کی پٹی کے خلاف جو بے رحمانہ جنگ شروع کی تھی اس میں بارہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے تھے اور اسرائیل حماس کی تنظیم کو ہٹانے میں ناکام ہوا تھا۔اخبار کہتا ہے کہ فلسطینی اسرائیلی مناقشے کی ایک وجہ فلسطینی انتظامیہ کی یہ تازہ کوشش ہے کہ اقوام متحدہ میں اُس کا رُتبہ بڑھا کر اُسے غیر رُکن مُبصّر کا درجہ دیا جائے ۔ اخبار کہتا ہے کہ باوجودیکہ اس بناء پر توازن طاقت میں فرق آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسرائیل نے إسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاہےکہ اس سے مذاکرات کے عمل میں رخنہ پڑ جائے گا۔

لیکن اخبار کا سوال ہے کہ اسرائیل کن مذاکرات یا امن کے عمل کی بات کر رہا ہے ۔ کیونکہ یہ عمل تو سالہاسال پہلے دم توڑ چُکا ہے، کیونکہ اسرائیل کو نئی یہودی بستیوں کو تعمیر کرنے پربرابراصرار ہے۔ جب کہ فلسطینی انتظامیہ کا یہ موقّف ہے کہ جب تک إن بستیوں کی تعمیر بند نہیں ہوتی ، کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں پائدار اور مستحکم امن کا قیام مقصُود ہے ۔ تو پھر فلسطینی اسرائیلی مناقشے کو حل کرنا ناگُزیر ہے۔ اور یہ حل دو مملکتوں کے قیام ہی سے ممکن ہے۔ لہٰذا ضروری ہےکہ دونوں فریقوں کو براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ تاکہ ایک محفوظ اور مستحکم اسرائیل کے شانہ بہ شانہ ، اقتصادی طور پر مضبوط اور سیاسی اعتبار سے مستحکم فلسطینی مملکت بھی قائم ہو۔

سان فرانسسکو کرانیکل

سان فرانسسکو کرانیکل ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ امریکی آئین کی چوتھی ترمیم کی بدولت ایک شہری کو بلا وجہ کی تلاشی اورگرفتاری کے خلاف جو تحفظ میسّر ہے ، وُہ نائین الیون کے بعد کے دور میں حکومت کی نگرانی کے اختیارات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے معدوُم ہو گیا ہے، اخبار کہتاہے کہ سرکاری ایجنٹوں کو کسی مجرمانہ کاروائی کے ثبُوت کی عدم موجودگی کے باوجود تلاشی اور نگرانی کا جو اختیار حاصل ہے، امریکی شہری سمجھتے ہیں کہ آئینی ترمیم کی رُو سے نافذ ہونے والی اصلاحات إس کی اجازت نہیں دیتے، لیکن جیسا کہ اخبار کہتا ہے کہ جدید سرکاری نگرانی کی انتہا کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر روز ملک کا قومی سلامتی کا ادارہ جو معلومات درمیان سے حاصل کر کے اپنے یہاں جمع کرتا ہے۔ اُن میں 34 ہزار گُوگل اکاؤنٹوں کے بارے میں ذاتی معلومات، پونے دو ارب ای میلز اور دوسرے مخطوطات شامل ہیں۔ اخبار کہتا ہےکہ ان معلومات کا اچھا استعمال بھی ہو سکتا ہے اور بُرا بھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کے استعمال کی کوئی حدمقرر ہونی چاہئے اور اس کی نگرانی بھی ہونی چاہئے۔

اخبار کہتا ہے کہ سی آئے اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹر یس کے سکینڈل سے ثابت ہو گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں، اُن کی وجہ سےحکومت کے اختیارات کو روکنے والی حدود معدوم ہو چکی ہیں۔ اور اخبارکا خیال ہے کہ اُن تمام شہریوں کو ، جو رازداری کو ایک بنیادی حق سمجھتے ہیں، اس سکینڈل میں اُس ذاتی خط و کتابت کی تفصیلی چھان بین پر پریشان ہونا چاہئے ۔ جس کی بناپر جنرل پیٹر یس کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑ۔

سیاٹل ٹائمز

اخبار سیاٹل ٹائمز نے ایک ادارئے میں رُوس کے ساتھ قریبی تجارتی روابط بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کانگریس میں اُس بل کی منظوری کی سفارش کی ہے۔ جس کی بدولت رُوس کے ساتھ مستقل بنیادوں پر تجارتی تعلّقات قائم کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اور جو اچھے سیاسی روابط کے لیے بھی اچھا ہوگا۔ اخبار کہتا ہے کہ سرد جنگ کے دورکے ایک امریکی قانون کے تحت روس امریکہ کے ساتھ صرف ایک ایک سال لیے تجارتی تعلقات قائم کر سکتا تھا۔ اس قانون کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وُہ اپنے یہوّدی شہریوں کو اسرائیل نقل وطن کر نے کی اجازت دے لیکن اخبار کہتا ہے کہ نیا روس اب دُشمن نہیں رہا ۔ اور 1994 سے اس نےاپنے یہودیوں کو نقل وطن کی بھی اجازت دے رکھی ہے۔

چنانچہ اب وقت آ گیا ہےکہ روس کے ساتھ تعلّقات مستقل بنیادوں پر استوار کئے جائیں ، باوجودیکہ روس، امریکی جمہوری معیار پر پورا نہیں اُترتا۔ اخبار کہتا ہے کہ دنیا میں بہت سے ایسے ملک ہیں جن کےپُورےطور پر جمہوری نہ ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں۔
XS
SM
MD
LG