رسائی کے لنکس

عالم یہ رہا کہ نصیر کی ہرہر ادا پر ہال میں موجود شائقین نے تالیاں پیٹ پیٹ کر ہاتھ سرخ کرلئے اور نصیرالدین شاہ کو کہنا پڑا کہ ’تالیاں آخر کے لئے بچا رکھئے‘

عصمت چغتائی کا شمار ان گنے چنے لکھاریوں میں ہوتا ہے جن کو ہر دور میں آرٹسٹ اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ بھارت کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ بھی اپنی تھیڑ کمپنی ’موٹلی تھیڑ‘ کے پلیٹ فارم سے اسٹیج پلے ’عصمت آپا کے نام‘ کے ذریعے عصمت چغتائی سے اپنے لگاوٴ کا اظہار کر رہے ہیں۔

پانچ مارچ کی شام کراچی میں ’تھیڑ لورز‘ کے لئے انتہائی خوشگوار رہی، کیونکہ یہ وہ شام تھی جب نصیرالدین شاہ نے ناپا فلم فیسٹول میں اپنی صاحبزادی حیبا شاہ اور اہلیہ رتنا پاٹھک شاہ کے ساتھ ’عصمت آپا کے نام‘ اسٹیج کیا۔

تقریبا ً1000 افراد کی گنجائش والا ناپا آڈیٹوریم سر شام ہی بھر گیا تھا۔ شائقین میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ مرینہ خان، ماہرہ خان، صنم بلوچ اور شوبز و دیگر شعبوں کی سلیبریٹیز بھی موجود تھیں۔

عصمت چغتائی کی تین کہانیوں پر مشتمل ڈرامہ مقررہ وقت کے مطابق ٹھیک آٹھ بجے شروع ہوا۔ ڈرامے کے آغاز سے پہلے خود نصیرالدین شاہ نے شائقین سے موبائل فونز بند رکھنے کی درخواست کی۔ لیکن، اگر وہ درخواست نہ بھی کرتے تو بھی ڈرامہ اتنا دلچسپ اور شاندار تھا کہ کسی کو بھی ڈرامے کے دوران کوئی ڈسٹربنس گوارا نہ ہوتی۔

’عصمت آپا کے نام‘ کی شروعات ہوئی کہانی ’چھوئی موئی‘ سے جو داستان گو کے روپ میں سنا رہی تھیں نصیرالدین شاہ کی صاحبزادی، ہیبا شاہ۔ ’چھوئی موئی‘ میں دیہات میں رہنے والی خواتین کے طاقتور کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، جسے تین مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی موجودگی نے مزید موٴثر بنا دیا۔

شام کی دوسری کہانی ’مغل بچہ‘ رتنا پاٹھک شاہ نے کہی۔ رتنا نے کہانی سناتے سناتے کہانی کے اتارچڑھاوٴ کو اس خوبصورتی اور مہارت سے پیش کیا کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھے۔ ’مغل بچہ‘ کی کہانی اترپردیش کے اشرافیہ کی کہانی ہے جو مغلوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس حقیقت کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کہ ان کے راج اور سنگھاسن کا سورج غروب ہوگیا ہے۔ اسی ماحول میں پلے بڑھے اور پروان چڑھے ’گوری بی‘ اور ’کالے میاں‘ کی لو اسٹوری کو ’مغل بچہ‘ کا کلائمکس کہا جا سکتا ہے۔

ڈیڑھ گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہنے والے ’عصمت آپا کے نام‘ کا نقطہ عروج ’گھروالی‘ میں نصیرالدین شاہ کی پرفارمنس تھی اور وہ ایسی پرفارمنس تھی جس نے نہ صرف ’میلہ لوٹ لیا‘ بلکہ دیکھنے والوں کے لئے اس شام کو ہمیشہ کے لئے یادگار اور امر بھی بنا دیا۔

سنہ 1940 کے بیک ڈراپ میں لکھی گئی اس کہانی میں انسانی احساسات و جذبات ، شادی جیسے رشتے کی باریکیوں اور مشکلوں کو جس مہارت سے عصمت چغتائی سے بیان کیا ، نصیر الدین شاہ نے اپنی بے ساختہ اداکاری سے اس میں حقیقت کے تمام رنگ سمودئیے۔

عالم یہ رہا کہ نصیرالدین شاہ کی ہرہر ادا پر ہال میں موجود شائقین نے تالیاں پیٹ پیٹ کر ہاتھ سرخ کرلئے اور نصیر کو کہنا پڑا کہ ’تالیاں آخر کے لئے بچا رکھئے‘۔

ڈرامے کے اختتام پر ہال سے باہر نکلنے والوں کو شاندار پرفارمنسز اور لاجواب پروڈکشن کے سحر نے جکڑ رکھا تھا۔ وائس آف امریکا کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ناپا کی سابق اسٹوڈنٹ میرینہ الیاس کا کہنا تھا ’یہ وہ پرفارمنسز تھیں جن کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ جس خوبی اور آسانی سے نصیرالدین شاہ نے ہر مشکل جگہ کو آسان بنا دیا وہ بس ان کا ہی خاصا ہے۔ ڈرامے کا سحر کافی عرصے تک رہے گا۔‘

ایک اور خاتون، ثمینہ وقار کا کہنا تھا کہ ’ڈرامے کا ٹکٹ دیگر ڈراموں کی بہ نسبت مہنگا لگا۔ لیکن، ڈرامہ دیکھا تو سارا ملال جاتا رہا۔ اتنا خوبصورت ڈرامہ تھا کہ جس کا کوئی جواب نہیں۔‘

ناپا تھیڑ فیسٹول کا حصہ ’عصمت آپا کے نام‘ 6 اور 7مارچ کو بھی اسٹیج کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG