رسائی کے لنکس

اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (اسنا) کا باونواں سالانہ اجلاس

  • ندیم یعقوب

اسنا کے صدر، اظہر عزیز

اسنا کے صدر، اظہر عزیز

منتظمین کے مطابق، کنوینشن کے دوران، مسلمان ممالک کو درپیش مسائل اور مسلمان اقلیتیوں کے مسائل پر بھی بات ہوگی۔ برما کے روہنگیا مسلمانوں اور کشمیر پر الگ الگ نشستیں ترتیب دی گئی ہیں؛ جب کہ چند اہم عالمی اسکالر بھی اس کنوینشن میں شرکت کر رہے ہیں

شکاگو۔۔۔ شمالی امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (اسنا) کا سالانہ کنوینشن جمعے کے روز شکاگو کے مضافاتی علاقے، روزمونٹ میں شروع ہوا۔

اس کنوینشن کا موضوع

Stories of Resilience: Strengthening the American Muslim Narrative

رکھا گیا ہے۔

اختتامی تقریب سے قبل, ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اسنا کے صدر اظہر عزیز نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی ترقی میں مسلمانوں کا بڑا ہاتھ ہے اور وہ معاشی، معاشرتی اور مختلف منصوبوں میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں‘۔

کنوینشن کے موضوع کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ دو قسم کی سوچ عام ہے اور افسوس کہ دونوں ہی منفی ہے۔

ایک یہ کہ مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلایا جائے یہ کہہ کر کہ مسلمان انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں؛ دوسرا انداز فکر اسلامی انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے منظر عام پر آ رہا ہے، جیسا کہ داعش کا شدت پسند گروہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے بارے میں مجموعی طور پر ایک منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ’اِس صورت حال سے شمالی امریکہ میں بسنے والے مسلمان متاثر ہو رہے ہیں؛ اور اِسی وجہ سے امریکہ میں کامیاب مسلمانوں کی کہانیاں دب کر رہ جاتی ہیں۔ حالانکہ، یہاں بسنے والے تارکین وطن کی پہلی، دوسری اور تیسری نسل اس معاشرے کے ہر میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے‘۔

وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلامی دنیا بہت سے مسائل سے دوچار ہے، جن میں انتہاپسند اور عسکریت پسند تنظیمیں شامل ہیں، جیسا کہ بوکو حرام، طالبان اور داعش ۔۔۔ جن کی جانب سے چیلنج درپیش ہے۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ اسنا اصل مسائل کی بجائے مسلمانوں کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

اظہر نے کہا کہ ’ہم کوئی عالمی ادارہ نہیں ہیں۔ ہم اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ ہیں؛ اسی لیے، ہم امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کو نسل پرستی اور ریاستی اداروں، خاص طور پر پولیس کی جانب سے تنگ کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا ہے اور اس کنوینشن کے دوران، اِن موضوعات پر خاص بحث اور بات چیت ہوگی۔

منتظمین کے مطابق، کنوینشن کے دوران، مسلمان ممالک کو درپیش مسائل اور مسلمان اقلیتیوں کے مسائل پر بھی بات ہوگی۔ برما کے روہنگیا مسلمانوں اور کشمیر پر الگ الگ نشستیں ترتیب دی گئی ہیں۔

چند اہم عالمی اسکالر بھی اس کنوینشن مین شرکت کر رہے ہیں۔

چار دِن تک جاری رہنے والی اس کنوینشن میں مختلف موضوعات پر الگ الگ سیشن، مذاکرے اور مباحثے ہوں گے۔ اِن میں مسلمانوں کے مسائل، اسلامی قوانین، حلال فائنانسنگ، نوجوانوں کے مسائل اور اسلامی تعلیم سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔

ہر سال کی طرحِ اس مرتبہ بھی کنویشن کے دوران، ’اسنا بازار‘ اور ’ٹریڈ شو‘ منعقد کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے معروف مسلمان فنکار اور گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

اس کے علاوہ، ایک فلم فیسٹیول بھی پروگرام میں شامل ہے۔ کئی ورکنگ سیشنز پر مشتمل تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی، جن میں نوجوانوں کے لیے ازدواجی زندگی سے متعلق ضیافت اور کمیونٹی کے لیے خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اسنا سنہ 1981ء میں تشکیل دی گئی اور اس کے بانیوں میں زیادہ تر وہ طالب علم تھے جو مختلف ممالک سے شمالی امریکہ میں آئے، جو یہاں ’مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشئن‘ کا حصہ رہے ہیں۔ اس لیے، اسی سال اسنا کا یہ 52 واں کنوینشن ہے، کیونکہ مسلم اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشئن 60 کی دہائی میں وجود میں آئی تھی۔

اس تنظیم کا مقصد مسلمان کمیونٹی کی فلاح، مختلف مکاتب فکر اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا، کمیونٹی کے لیے تعلیمی اور معاشرتی پروگرام ترتیت دینا اور دوسری مذہبی برادریوں کے ساتھ بہتر روابط اور تعلقات استوار کرنا شامل ہے۔

فوٹو گیلری ملاحظہ کیجئیے:

XS
SM
MD
LG