رسائی کے لنکس

انصاف کے بغیر مشرق وسطیٰ امن ممکن نہیں: کارٹر

  • ندیم یعقوب

صدر کارٹر

صدر کارٹر

انجیلِ مقدس اور قرآن پاک سے حوالے دیتے ہوئے، سابق امریکی صدر نے کہا کہ ’کوئی بھی مذہب عورت کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کی اجازت نہیں دیتا‘

امریکہ کے سابق صدر جِمی کارٹر نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو انصاف فراہم کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں۔

ہفتے کے روز شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم (اسنا) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ہے اور اُن کا ادارہ، ’کارٹر سینٹر‘ خطے میں امن کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ لڑائی کے دوران بھی اُن کا اسٹاف غرہ میں موجود رہا۔

ریاست مِشی گن کے شہر، ڈیٹرائٹ میں منعقدہ کنوینشن کے دوسرے روز ہزاروں شرکاٴ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، صدر کارٹر نے مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

صدر کارٹر نےمسلمان ممالک میں جمہوریت اور آزادی کی جدوجہد کے بارے میں مفصل بات کی۔ عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق اور اُن کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں بات کرتے ہوئے، کارٹر نے انجیلِ مقدس اور قرآن پاک سے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب عورت کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ امتیازی سلوک نا صرف مسلمان کمیونٹیز میں ہے، بلکہ مسیحی مذاہت کے ماننے والے بھی خواتین کے خلاف امتیازی رویے رکھتے ہیں۔ اِسی طرح، سابق صدر نے امریکہ میں جسمانی تجارت کے مسئلے کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کارٹر کے بقول، امریکہ میں ہزاروں لڑکیاں اس مسئلے کی وجہ سے غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔

سابق صدر نے کہا کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں اور امریکی فوج کے اندر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا مسئلہ کافی گھمبیر ہے، جس سے نمٹنے کے لیے کانگریس اور دوسرے ادارے کام کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے امریکہ میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے۔

اُنھوں نے لڑکیوں کی چھوٹی عمر میں شادیوں کے مسئلے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کارٹر نے کہا کہ اُن کاادارہ مختلف کمیونٹیز کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہا ہے۔

جِمی کارٹر 20 جنوری 1977ء سے 20 جنوری 1981ء کے دوران امریکہ کے 39ویں صدر رہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اُسی صورت میں دوسرے ممالک پر نکتہ چینی کرنے میں حق بجانب ہوگا، جب وہ داخلی طور پر مختلف کمیونٹیز اور خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو ختم کرے گا۔

اُن کے خطاب کے بعد، اِسنا کنوینشن میں شریک اہم امریکی مسلمان رہنماؤں کے تمام شرکاٴ کی جانب سے ایک قرارداد پر دستخط کیے، جس میں خواتین کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک برتنے کی مذمت کی گئی اور اُنھیں برابری کے حقوق دینے کا تحیہ کیا گیا۔

یہ کنوینشن ایسے وقت ہو رہی ہے جب مختلف اسلامی عسکریت پسند گروہ شام، عراق، نائجیریا اور دوسرے ممالک میں سرگرمِ عمل ہیں۔

ایک اور بڑا مسئلہ جس کا اسلامی دنیا کو سامنا ہے اور وہ ہے فرقہ واریت۔ اسنا کے رہنما اس سے بخوبی واقف ہیں۔اِسی لیے اتوار کو کنوینشن کے دوران، ایک نشست شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان اتحاد کے بارے میں تھی۔

مختلف فرقوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکالرز کا کہنا تھا کہ افریقی مسلمان معاشرتی اور سیاحتی لحاظ سے کچھ مسلمان ملکوں میں موجود فرقہ واریت کو امریکہ میں نہیں لاسکتے اور یہاں پر بسنے والے مسلمانوں کو فرقوں کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو غلط کہنا ہوگا اور اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ اِس لیے، بین الامذاہب مکالمے سےپہلے یہاں بسنے والی شیعہ اور سنی برادریوں کو پہلے آپس میں رابطے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

بقول اُن کے، اِس تنازع کا فائدہ ایک ہی ملک، یعنی اسرائیل، کو رہا ہے۔ فرقہ واریت ایک بیماری ہے، جس کے خلاف خاموش رہنا ایک گناہ ہے۔

چار روزہ کنوینشن پیر کو ختم ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG