رسائی کے لنکس

‘اِسنا ’ کا سالانہ کنوینشن شروع: مؤثر حکمتِ عملی تیارکرنے پر زور

  • عمران صدیقی

اسکلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (اِسنا) کے 47ویں سالانہ کنوینشن کا آغاز دوجولائی کوایک پُرجوش انداز میں ہوا۔ منتظمین کے مطابق، تقریباً 30000لوگوں نے کنوینشن میں شرکت کی۔

اِس تین روزہ کنوینشن کو منعقد کرنے کا مقصد امریکہ اوردنیا بھر کے دوسرے ممالک سے مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے، تاکہ آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے مؤثر حکمتِ عملی تیار کی جاسکے۔

اِسنا کا پہلا اجلاس 47برس قبل منعقعد ہوا تھا اور تب سے باقاعدگی سے ہر سال منعقد ہوتا آرہا ہے۔ اِس کا مقصد مسلمانوں کی آواز اور رائے کو سامنے لانا اور مسلمانوں کے ذریعے امریکی عوام میں مستحق افراد کی مدد کرنا ہے۔

اِسنا کنوینشن میں مختلف مذاکرے بھی منعقد ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک مذاکرے کا عنوان اسلام کی تعلیمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مسلمان کمیونٹی کی خدمت کرنا ہے، جس میں اُنھیں اپنے ہمسایوں سے میل جول رکھتے ہوئے اور بات چیت کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ایسے مذاکروں میں مسلمانوں کے علاوہ ایسے امریکیوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے جِن کا تعلق دوسرے مذاہب سے ہو۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اِس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کہ چونکہ امریکی مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے لہٰذا ایسا کوئی مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ بین المذاہب تعلقات میں بہتری آ سکے۔

ایک اور پہلو جس پر اس سال پہلی بار بات کی جارہی ہے وہ ہے اُن افراد کی مدد کرناہے جو بینائی یا سماعت کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

اِسنا کی صدر، ڈاکٹر اِنگرڈ میٹسن نے، جو امریکہ میں کسی مسلمان تنظیم کی پہلی خاتون صدر ہیں، کہا کہ إِس سال ہونے والے کنوینشن کا اصل مقصد امریکی مسلمانوں میں اس پہلو کو اجاگر کرنا ہے کہ اسلام سماجی میل جول کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اِسی لیے ، اُن کی یہ کوشش ہے کہ ہر مسلمان اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ کیا آج اُس نے کسی دوسرے انسان کی مدد کی ہے، بغیر اِس تفریق کے کہ مدد حاصل کرنے والا مسلمان ہےیا کوئی اور۔

XS
SM
MD
LG