رسائی کے لنکس

اِسنا کنوینشن: مسلمانوں کے اتحاد اور بلند حوصلے پر زور

  • ندیم یعقوب

فلسطین، مظاہرہ

فلسطین، مظاہرہ

زور پکڑتے ہوئے مذہبی تشدد اور انتہا پسندی کے رجحان کے باعث، امریکہ میں بسنے والے مسلمان پریشان ہیں کہ ایسے عناصر کی سرگرمیاں اور اچھوتے نظریات اس بات کا موجب بنتی ہیں کہ تمام مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے

اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (اِسنا) کے زیر اہتمام امریکی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں منعقدہ چار روزہ سالانہ کنوینشن پیر کو اختتام پذیر ہوا۔

اِس سال، کنوینشن کا موضوع ’جنریشنز رائیز‘ تھا، جس کا مقصد نہ صرف نئی نسل کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والوں پر توجہ مرکوز کرنا تھا، بلکہ نسلی اور لسانی اعتبار سے مختلف نقطہٴنظر رکھنے والے مسلمانوں کو اِکٹھا کرنا اور آگے بڑھنے کے لیے تیار کرنا تھا۔

اِسنا گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی ترقی کے لیے منظم طور پر کام کر رہی ہے، اور ڈئٹرائٹ میں یہ اُس کا پہلا کنوینشن تھا۔

کنوینشن کے دوران روزانہ تقریباً 20 سے 30 موضوعات پر الگ الگ نشستیں ہوئیں، جِن سے تقریباً 300 مذہبی اسکالروں، دانشوروں اور ماہرین نے خطاب کیا۔

اِس سال یہ کنوینشن ایسے وقت منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی ہفتوں تک لڑائی جاری رہی، اور کئی اسلامی ممالک میں انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں شدت آئی۔ ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ دو امریکی شہری ایک انتہا پسند گروہ، ’آئی ایس آئی ایس‘ کی جانب سے لڑتے ہوئے شام میں ہلاک ہوئے۔ امریکہ اور یورپ میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اُن ممالک سے تعلق رکھنے والے جہادی عناصر جب اپنے ملکوں کو لوٹیں گے، تو وہاں دہشت گردی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

امریکہ میں بسنے والے مسلمان اِس صورتِ حال سے پریشان ہیں کہ اِن عناصر کی کارروائیوں اور نظریات کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

سبکدوش ہونے والے صدر، امام ماجد اور نئے منتخب صدر، اظہر عزیز نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، واضح کیا کہ اِسنا دولتِ الاسلامی عراق و شام اور دوسرے تشدد پسند گروہوں اور دہشت گردی کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ اسلام میں اِن نظریات کو ماننے والوں کے لیے ’کوئی جگہ نہیں‘۔

اِس کے علاوہ، دوسرے عالمی امور بھی مختلف نشستوں میں زیرِ بحث آئے۔ مثال کے طور پر ترکی، نائجیریا، غزہ اور کشمیر، جن پر الگ الگ سیشنز ہوئے۔

جب کنوینشن ہال میں غزہ کے معاملے پر بحث ہو رہی تھی، کنوینشن سینٹر کے باہر فلسطین کے کچھ حامی گروپس نے ایک ریلی نکالی اور فلسطین کے حق میں نعرے بلند کیے۔ تاہم، اجلاس میں یہ بات واضح کی گئی کہ اِن گروہوں کا اِسنا سے کوئی تعلق نہیں۔

کشمیر کے مسئلے پر جِن ماہرین نے خطاب کیا، اُن میں کشمیر کونسل کے رہنما، غلام نبی فائی بھی شامل تھے۔

ایک اور اہم مسئلہ جس کا مسلمان دنیا کو سامنا ہے وہ شیعہ اور سنی فرقوں کے معاملات ہیں۔ اتوار کے روز اس موضوع پر نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی اسکالروں اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان اتحاد اور روابط بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اِسنا کے عہدے داروں کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تنظیم بہت کامیابی سے مختلف فروقوں اور نظریات رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ چونکہ اِسنا بین الامذاہب ہم آہنگی کے لیے بھی کوشاں ہے، اِس لیے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اسکالروں، مذہبی رہنماؤں نے بھی کچھ سیشنز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اِس سال کنوینشن کا سب سے اہم اجلاس ہفتے کو ہوا، جس میں امریکہ کے سابق صدر، جمی کارٹر نے ہزاروں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ اُنھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک فلسطینیوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، خطے میں امن ممکن نہیں۔

سابق صدر نے اپنے خطاب کے دوران مختلف موضوعات پر بات کی، مگر اُن کی زیادہ تر توجہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر مرکوز تھی۔

امریکی ریاست، مشی گن کا مرکزی شہر ڈیٹرائٹ موٹر گاڑیوں کی صنعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے شہر کی معیشت تنزلی کا شکار رہی ہے اور اِس شہر کی انتظامیہ کے لیے شہری نظام کو چلانا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ اِسی لیے، اِس ہفتے جب امریکہ بھر سے ہزاروں مسلمان شمالی امریکہ کی سب سے بڑی تنظیم، اِسنا کے سالانہ کنوینشن کے لیے شہر میں اُمڈ آئے، تو انتظامیہ نے کھلے دل سے اُن کا استقبال کیا اور مشی گن کے گورنر، رِک سنائیڈر نے اِسنا کے صدر، امام محمد ماجد کے ہمراہ کنویشن کا افتتاح کیا۔

’اسلامک ایسو سی ایشن آف گریٹر ڈیٹرائٹ‘ کے امام، آلِ لیلہ نے اس کنوینش کے بارے میں کہا، ’یہ نہ صرف امریکہ کے مسلمانوں کے لیے، بلکہ ہمارے مشی گن کے شہریوں کے لیے موقع ہے کہ وہ دیکھیںٕ کہ ہم مسلمان برادری میں کتنا تنوع ہے اور اسے اپنے شہروں اور ریاستوں کی بہتری اور معیشت میں کیا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

چار روز تک جاری رہنے والا یہ کنوینشن شہر کی معیشت کے لیے تو فائدیمند تو تھا ہی، مگر شمالی امریکہ کے مسلمانوں کے لیے یہ ایک اہم موقع تھا اُن سیاسی، مذہبی، سماجی اور شخصی مسائل اور چیلنجز پر بات کرنے کا جِن کا سامنا مسلمان برادری کو ہے۔

XS
SM
MD
LG