رسائی کے لنکس

غیریہودی تارکین وطن کی آمد پر اسرائیل کی تشویش

  • لوئس رمیریز

غیریہودی تارکین وطن کی آمد پر اسرائیل کی تشویش

غیریہودی تارکین وطن کی آمد پر اسرائیل کی تشویش

افریقی ملکوں سے ہزاروں مسلمان روزگار اور تحفظ کی تلاش میں اسراٰئیل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اسرائیلی لیڈروں کی نظر میں یہ لوگ اسرائیل کی سلامتی اور مملکت کے یہودی تشخص کے لیے خطرہ ہیں۔

آنے والے دنوں میں، اسرائیلی کابینہ مصر کے ساتھ اپنے ملک کی 240 کلومیٹر طویل سرحد سے غیر قانونی طور پر اسرائیل میں داخل ہونے والوں کو روکنے کے لیے نئے اقدامات پر غور کرے گی۔ آج کل افریقہ کے ملکوں سے اور سوڈان کے دارفر کے علاقے سےہزاروں مسلمان روزگار اور تحفظ کی تلاش میں اسراٰئیل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اسرائیلی لیڈروں کی نظر میں، یہ لوگ اسرائیل کی سلامتی اور مملکت کے یہودی تشخص کے لیے خطرہ ہیں۔

احمد بداوی بطران کا تعلق دارفر سے ہے۔ وہ ان 19,000 لوگوں میں شامل ہیں جو اسرائیل میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کام کی تلاش میں مصر گئے تھے۔ وہاں ان کے دِل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسرائیل چلا جائے۔ وہاں سے کینیڈا، آسٹریلیا یا امریکہ جانا ممکن ہوگا۔ ان کے پاس اب عارضی ویزا ہے۔ ہر تین مہینے بعد وہ اس کی تجدید کرا لیتے ہیں۔ وہ، ان کی بیوی اور چھہ بچے تل ابیب کے ایک پسماندہ علاقے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ ہزاروں دوسرے لوگوں کی طرح احمد نے بھی سینا کے ریگستان کو پار کیا اور مصری سرحدی محافظوں سے بچتے بچاتے، جو اکثر اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والوں کو گولی ماردیتے ہیں، یہاں پہنچ گئے۔

مصر کے ساتھ اسرائیل کی سرحد پر Kadish Bamea کی بستی ہے۔ یہاں Avishai اور Jolanda Pinchas اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھے ہیں۔ یہاں سے مصری گارڈ ٹاور اور سرحد پر لگی خار دار تاروں کی باڑھ صاف نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ رات کو گولیاں چلنے کی آواز سے ان کی آنکھ کُھل جاتی ہے۔Pinchas کہتےہیں کہ آپ کو پتہ ہے کتنی بار یہاں پناہ گزیں ہلاک ہو چکے ہیں؟ یہ بڑی ہولناک بات ہے۔ جب یہ سب کچھ ہوتا ہے تو ہمیں گولیوں کی آواز صاف آتی ہے۔

ماضی میں اس جوڑے نے درجنوں بھوکے اور زخمی سوڈانیوں کو پناہ دی ہے اور انہیں اپنے کسی بنگلے میں ٹھہرا لیا ہے۔ ایک موقع پر انھوں نے پچپن مردوں، عورتوں اور بچوں کو کھانا، دوائیں اور رہنے کی جگہ دی تھی۔ لیکن جب اسرائیلی سرحدی پولیس نے تارکین وطن کو پکڑنا اور انہیں حراستی مرکز میں لے جانا شروع کر دیا تو انھوں نے یہ سلسلہ ختم کر دیا۔

تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے کئی سو لوگ سرحد پار کر لیتے ہیں۔ مصر سرحدی گارڈز سے بچ نکلنے کے بعد، وہ سڑک پر انتظار کرتے ہیں تا کہ پولیس انہیں پکڑ لے اور حراستی مرکز لے جائے۔ بہت سے مقامات پر سرحد پر خار دار تار کی ایک پتلی سی لائن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ بعض اسرائیلی کہتے ہیں کہ یہ کوئی سرحد نہیں ہے اور خاص طور سے ایسے ملک کو جسے دہشت گروں کے خطرے کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ سرحد بالکل نا کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Pinchas خاندان نے سرحد کو مضبوط کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

Jolanda Pinchas کہتی ہیں کہ’’کیا پتہ کہ سرحد پر کیا کچھ ہو رہا ہے، اور ہتھیار یا اسی قسم کی چیزیں نہیں آ رہی ہیں۔ آج کل تو یہاں ہر کوئی آ سکتا ہے۔ اسرائیل کو چاہیئے کہ وہ اس سرحد کو محفوظ بنا ئے‘‘۔

ان کے شوہر Avishai کہتے ہیں کہ سرحد پر حفاظتی انتظامات ہونے سے کم از کم وہ تشدد رُک جائے گا جو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سرحد پر اتنے زیادہ دلخراش واقعات ہوئے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے ملک میں ہی رہنا چاہیئے اور سرحد پار کرنے اور مارے جانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیئے۔ یہاں کتنی ہی عورتیں اور بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے‘‘۔

ایک بار سوڈانی تارکین وطن اسرائیل میں داخل ہو جائیں تو بھی ان کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔ احمد کو اب تک کوئی باقاعدہ روزگار نہیں ملا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اسرائیلیوں کا سلوک اچھا ہے۔ ان کے بچوں کو یہاں تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتیں مِل رہی ہیں۔ پھر بھی یہ جگہ کبھی ان کا گھر نہیں بن سکتی۔ اسرائیل یہودی تارکین وطن کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن مسلمان اسرائیل کی شہریت کے اہل نہیں ہیں۔

احمد جانتے ہیں کہ ان کے گھرانے کے لیے یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہاں سے چلے جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرحد پر مضبوط باڑھ لگ جائے تو اچھا ہو گا کیوں کہ پھر ان جیسے تارکین وطن اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ وہ کسی طرح اسرائیل میں داخل تو ہو گئے ہیں لیکن اب وہ یہاں سے واپس جانا چاہتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ آخر یہاں لوگ آنا کیوں چاہتے ہیں۔ یہاں ان کے لیے کوئی مستقبل نہیں ہے۔

اسرائیل غیر یہودی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے لیڈروں کو امید ہے کہ افریقہ میں احمد کے یہ خیالات دور دور تک پہنچ جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG