رسائی کے لنکس

جنگ بندی کے جامع معاہدہ پر ’اتفاق‘ ہو گیا: اسرائیلی عہدیدار


فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10 بجے شروع ہونے والی جنگ بندی کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی یہ راکٹ اشکول نامی علاقے میں گرے۔

اسرائیل کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی ایک جامع معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر اطلاق جمعہ سے ہو گا۔

تاہم حماس یا کسی فلسطینی عہدیدار کی طرف سے تاحال اس کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس معاہدے کی منظوری مصر ہونے والی بات چیت میں سینیئر اسرائیلی وفد نے دی۔

"جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا ہے جو کہ میرا ماننا ہے کل صبح چھ بجے سے قابل عمل ہوگا۔"

لیکن کچھ اسرائیلی عہدیداروں نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کی قیادت ابھی اس معاہدے کا جائزہ لے رہی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جمعرات کو پانچ گھنٹے کی جنگ بندی کا وقت شروع ہونے کے بعد حماس کے عسکریت پسندوں نے اس کے علاقے میں تین راکٹ داغے۔

فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10 بجے شروع ہونے والی جنگ بندی کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی یہ راکٹ اشکول نامی علاقے میں گرے۔

اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ اس کا جواب طاقت سے دے گا۔ لیکن تاحال کسی بھی طرح کے ردعمل کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

جنگ بندی کا وقت شروع ہونے سے قبل جمعرات ہی کو اسرائیل نے غزہ میں 37 مقامات کو نشانہ بنایا۔

فلسطینی محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد 227 ہوگئی ہے۔

اسرائیل نے فضائی کارروائیاں حماس کی طرف سے راکٹ داغنے کے عمل کو روکنے کے لیے شروع کی تھیں۔ اب تک کی لڑائی میں صرف ایک اسرائیلی ہلاک ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ غزہ کے شمالی علاقے نقل مکانی کرنے والے افراد کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد بھی "اپنی حفاظت کے پیش نظر" اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG