رسائی کے لنکس

اسرائیل کا اقوام متحدہ کے فنڈز میں 60 لاکھ ڈالر کی کمی کا اعلان


بینجمن نیتن یاہو (فائل فوٹو)

امریکہ نے اس قرار داد کی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا جس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر 14 ارکان نے یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو ہر سال ادا کیے جانے والے اپنے واجبات سے 60 لاکھ ڈالر کی رقم روک رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی اس قرار داد کے بعد سامنے آیا جس میں اسرائیل سے " مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستوں کی تعمیر کو روکنے" کے لیے کہا گیا تھا۔

امریکہ نے اس قرار داد کی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا جس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر 14 ارکان نے یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے ایک بیان میں کہا "یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہے کہ اسرائیل ان اداروں کو فنڈز فراہم کرے جو اقوام متحدہ میں ہمارے خلاف کام کرتے ہیں۔"

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مشن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اسرائیل "اسرائیل مخالف سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے" دیگر اقدامات اٹھائے گا۔

دوسری طرف جمعرات کو امریکہ کے ریپبلکنز کی اکثریت والے ایوان نمائندگان نے بھاری اکثریت سے ایک قرار داد منظور کی جس میں اقوام متحدہ کے موقف کی مذمت اور صدر براک اوباما کی انتظامیہ پر سلامتی کونسل میں (اسرائیل مخالف) قرار داد پر رائے شماری میں حصہ نہ لینے پر تنقید کی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکہ کی طرف سے اس قرارد داد کی رائے شماری میں حصہ نا لینے پر اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم فلسطینیوں نے اس قرار داد کا خیر مقدم کیا ہے اور فلسطین کے سابق مذاکرات کار صائب عریکات نے اسے نیتن یاہو کے لیے ایک " واضح اور متفقہ" پیغام قرار دیا کہ ان کی پالیسیاں اسرائیل یا فلسطینیوں کے لیے امن یا سلامتی کا باعث نہیں بنیں گی۔

مشرقی یرو شلم اور مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی بستیوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی رہتے ہیں جنہیں دنیا کی زیادہ تر حکومتیں غیر قانونی خیال کرتی ہیں۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG