رسائی کے لنکس

یونائیٹڈ عرب پارٹی اسرائیلی انتخابات میں ایک غیر متوقع نئی قوت


سروے رپورٹس کے مطابق جوائنٹ عرب لسٹ اسرائیلی انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے مخلوط حکومت سازی میں اہم کھلاڑی بن سکتی ہے۔

گزشتہ چھ دہائیوں میں اسرائیل کی عرب اقلیت کی سیاسی حیثیت ضمنی سے زیادہ نہیں تھی، مگر آئندہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں یہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ اس بار چار عرب پارٹیاں ایک متحدہ پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

سروے رپورٹس کے مطابق جوائنٹ عرب لسٹ اسرائیلی انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے مخلوط حکومت سازی میں اہم کھلاڑی بن سکتی ہے۔ مخلوط حکومت بنانے کے لیے گٹھ جوڑ اسرائیلی سیاست کا اہم عنصر ہے کیونکہ یہاں کبھی کوئی پارٹی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

اسرائیل کی عرب برادری ملک کی کل آبادی (80 لاکھ) کا 20 فیصد ہے۔ اس برادری نے کہا ہے کہ یہ اتحاد امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے اور اپنی شناخت تسلیم کروانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ اسرائیل کے عرب شہریوں کو قانون میں برابر حقوق حاصل ہیں مگر وہ اکثر شکایات کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

ناصِرة‎ سے تعلق رکھنے والی ایک 24 سالہ طالبہ مِرنہ برانسی نے کہا کہ ’’ہم اس کا برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ اب ہمارے پاس تبدیلی لانے کی زیادہ طاقت ہوگی۔‘‘

اسرائیلی عرب ان لوگوں کی اولاد ہیں جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کی جنگ کے دوران یہیں آباد رہے۔ اس جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینی گھر بار چھوڑ کر چلے گئے یا انہیں زبردستی اپنے گھروں سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے اردن، لبنان، شام، غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں پناہ لی تھی۔

جو باقی رہ گئے وہ طویل عرصے سےعرب علاقوں کے لئے اسرائیل کے باقی علاقوں کی نسبت کمتر سہولتوں اور تعلیم، صحت اور رہائش کے لیے کم بجٹ مختص کرنے کی شکایت کرتے آ رہے ہیں۔ اسرائیل میں آدھے سے زیادہ عرب خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے کی شمالی سرحد پر واقع اسرائیلی شہر أمّ الفحم‎ میں 48,000 عرب آباد ہیں۔ پہاڑوں میں جاتی اس کی مرکزی شاہراہ پر جگہ جگہ کتبے نصب ہیں جن پر یہاں کے رہائشیوں کو جوائنٹ عرب لسٹ کو ووٹ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

شہر کے داخلی راستے پر ایک نیلے اور سرمئی رنگ کا بینر لگا ہے جس پر ’’ایک مقصد، ایک ووٹ‘‘ کا نعرہ درج ہے۔ یہاں کی رہائشی 46 سالہ خطام محمیص کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالا مگر اس بار وہ ضرور ووٹ ڈالیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہاں عربوں کی زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ہمارے زیادہ لوگ ووٹ ڈالیں گے تو ہم زیادہ پائیں گے۔‘‘

اس سے پہلے کبھی بھی عرب پارٹیاں اسرائیلی حکومت کا حصہ نہیں بنائی گئیں، نہ ہی انہوں نے کبھی اس کی درخواست کی۔ اس رجحان میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں مگر پھر بھی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جوائنٹ عرب لسٹ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

روایتی طور پر 120 سیٹوں پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان میں عرب پارٹیاں تقریباً 11 سیٹیں حاصل کرتی ہیں۔ متحدہ پلیٹ فارم سے وہ 13سیٹیں حاصل کر سکتی ہیں جبکہ ان کے اپنے اندازوں کے مطابق وہ 15 نشستیں بھی حاصل کر سکتی ہیں جس سے وہ پارلیمان کی تیسری بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہیں۔

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابی نظام میں عوام امیدوار کی بجائے پارٹی کا انتخاب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے سب سے زیادہ حلیف ہوں اس کا سربراہ صدارتی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد حکومت سازی کی کوشش کرتا ہے۔

جوائنٹ عرب لسٹ کے سربراہ أيمن عودة‎ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی زائیونسٹ یونین پارٹی کے سربراہ آئزک ہرزوگ، جن کا وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی لکود پارٹی سے سخت مقابلہ ہے، کی حمایت کریں گے۔

اس طرح کے سخت مقابلے میں ہر سیٹ اہم ہو گی۔

2013 کے الیکشن میں عربوں کے ووٹوں کا تناسب 57 فیصد رہا جو قومی تناسب 68 فیصد سے کم تھا۔ اسرائیل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ کے تمر ہرمن کا کہنا ہے کہ اس تناسب میں اس سال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کے اہل ووٹروں کا 15 فیصد عربوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ 18 سیٹیں بھی جیت سکتے ہیں۔ تاہم کچھ عرب غیر عرب پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں۔

چالیس سالہ أيمن عودة‎ کو عرب آبادی سے باہر کم لوگ جانتے ہیں۔ مگر حال ہی میں ٹی وی پر ہونے والی ایک بحث کے دوران اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ اس بحث میں اسرائیلی وزیرِخارجہ نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ پارلیمان میں دہشت گردوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’اس الیکشن میں ’امن‘ ایک گندہ لفظ بن گیا ہے۔ مجھے تشویش ہے کہ اس کی وجہ سے آئندہ انتخابات میں کہیں ’جمہوریت‘ بھی گندہ لفظ نہ بن جائے۔‘‘

XS
SM
MD
LG