رسائی کے لنکس

اسرائیل: مشتبہ یہودی شدت پسندوں کی گرفتاریاں


فلسطینی شہری کے گھر پر یہودی شدت پسندوں کے حملے پر اسرائیل میں آباد عرب باشندوں اور فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا

فلسطینی شہری کے گھر پر یہودی شدت پسندوں کے حملے پر اسرائیل میں آباد عرب باشندوں اور فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا

پولیس حکام ذرائع ابلاغ کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی درست تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

اسرائیل میں پولیس کی جانب سے مشتبہ یہودی شدت پسندوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ حکام نے دو معروف قدامت پسندوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے قید کردیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں مغربی کنارے میں حال ہی میں پیش آنےوالے پرتشدد واقعات کے ردِ عمل میں کی گئی ہیں۔

تاہم پولیس حکام ذرائع ابلاغ کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی درست تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

صیہونی شدت پسندوں کے خلاف اسرائیلی پولیس کی حالیہ کارروائیاں مغربی کنارے میں 31 جولائی کو پیش آنے والے سانحے کے بعد شروع ہوئی تھیں جس میں بعض مبینہ صیہونی شدت پسندوں نے ایک فلسطینی کے گھر کو آگ لگادی تھی۔

آتش زنی کی اس واردات میں گھر کا فلسطینی مالک اور اس کا 18 ماہ کا بچہ ہلاک جب کہ مقتول کی بیوی اور اس کا بھائی جھلس کر زخمی ہوگئے تھے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

واقعے پر اسرائیل میں آباد عرب باشندوں اور فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا جب کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی واقعے کے خلاف ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق اتوار کو گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے کوئی بھی آتش زنی کے واقعے کا براہِ راست ملزم نہیں ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزارتِ دفاع نے دو معروف یہودی قوم پرستوں کو ایک متنازع قانون کے تحت بغیر مقدمہ چلائے انتظامی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے اعلامیے کے مطابق میئر ایٹنگر اور ایویاٹر سلونم کو شدت پسند تنظیموں کے ساتھ ان کی وابستگی کی بنیاد پر حفاظتی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دونوں افراد کو گزشتہ ہفتے مغربی کنارے میں فلسطینی باشندے کے گھر پر یہودی شدت پسندوں کے حملے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

ان دونوں افراد کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے متنازع قانون کے تحت بغیر قانونی کارروائی کے قید کیے جانے والے یہودی شدت پسندوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ہفتے بھی ایک معروف یہودی شدت پسند کو مذکورہ قانون کے تحت حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG