رسائی کے لنکس

اسرائیلی فوجی خاتون کا فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تصویروں کی اشاعت کا دفاع


ابیرگل ایک قیدی کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں

ابیرگل ایک قیدی کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں

ایک سابق اسرائیلی فوجی نے کہا ہے کہ اِس بات میں کوئی مذائقہ نہیں کہ اُنھوں نے فیس بک کے مقبول سماجی نیٹ ورکنگ سائٹ پر فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کھچوایا گیا فوٹو لگایا ہے، جِس میں اُنھیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں چڑھی ہوئی ہیں۔

منگل کو اسرائیلی فوجی ریڈیو کے ساتھ انٹرویو میں ایڈن اَبیرگل نے کہا ہےکہ فوٹو لگانا سیاسی بیان دینے کے مترادف نہیں ہے۔

ابیرگل نے کہا کہ تصاویر اِس لیے اُتاری گئی تھیں کہ فوج کے ساتھ بیتنےدِنوں کی یاد تازہ ر ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ تصاویر 2008ء میں ایک بیس پراُتاری گئی تھیں، جہاں اکثرو بیشتر غزہ سرحد پارکر کے اسرائیل میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کو پوچھ گچھ کے لیےرکھا جاتا تھا۔

ابیرگل نے سماجی میڈیا ویب سائٹ پر چند ہفتے قبل اپنے فوٹو لگائے تھے جِن کا عنوان ‘فوج میں گزرے ہوئےمیری زندگی کے بہترین دِن’ تھا۔

ایک تصویر میں مسکراتی ہوئی سابق رِزرو سپاہی کو تین قیدیوں کے سامنےدکھایا گیا ہے جس میں اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور اُن کی آنکھوں پر پٹیاں چڑھی ہوئی ہیں۔ ابیرگل ایک قیدی کے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں، جس میں اُن کا ماتھا قیدی کی طرف جھکا ہوا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے پیر کے روز یہ تصاویر چھاپیں ہیں۔ اُس کے بعد اُنھوں نے فیس بک سے اپنے فوٹو ہٹا دیے، لیکن اُنھیں انٹرنیٹ پر خبروں کے مختلف ویب سائٹس اور بلاگز پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر‘ شرمناک’ ہیں اور فوجی عہدے دار اِن کی تفتیش کریں گے۔

فلسطینی گروپوں نے کہا کے کہ یہ تصاویر ذلت آمیز ہیں، اور اِن سے قابض لوگوں کی ذہنی حالت کا پتا چلتا ہے۔

ابیرگل نے اسرائیل میں اپنی لازمی فوجی خدمات پوری کرلی ہیں اور اب ایک سویلین کے طور پر زندگی بسر کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG