رسائی کے لنکس

اسرائیل فلسطین کشیدگی سے شہری پریشان


اسرائیل فلسطین کشیدگی سے شہری پریشان
اسرائیل فلسطین کشیدگی سے شہری پریشان

غزہ سے ملحق اسرائیلی سرحد پر ان دنوں کشیدگی میں اضافہ ہورہاہے۔ فلسطینی عسکریت پسند یہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغتے رہے ہیں ، جن میں سے چند ایک تل ابیب سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر گرچکے ہیں۔ اسرائیل راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ پر فضائی حملے اور گولاباری کرچکاہے، جس سے فلسطینیوں کی برہمی مزید بڑھی ہے۔

فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے جانے والے کچھ راکٹ اسرائیل کےساحلی شہر اشدود پربھی گرے ہیں۔

اشدود میں رہنے والی ایک اسرائیلی خاتون یافا بریگا کا کہناہے کہ غزہ کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کے بعد اب ان کے لیے یہاں نارمل زندگی گذارنا ممکن نہیں رہا۔ کیونکہ کئی راکٹ ان کی اپارٹمنٹ بلڈنگ سے محض چند میٹر کے فاصلے پر گرچکے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ راکٹ اب ان کے زیادہ قریب گرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے لرز جاتے ہیں ۔ یہ بہت خوف کی بات ہے ۔ میں اچھی طرح سوبھی نہیں سکتی ۔ اس سے ذہن پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔

بریگاکے گھر کے قریب سے وہاں گرنے والے راکٹوں کے کئی ٹکڑے مل چکے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی ہلاک نہیں ہوا ہے ،لیکن یہاں رہنے والوں کا سکون درہم برہم ہوچکاہے۔

حالیہ کچھ دنوں سے غزہ کے عسکریت پسند اسرائیل پر راکٹ داغ رہے ہیں اور اسرائیل جوابی طورپر ان کے خلاف فضائی حملے اور گولاباری کررہاہے۔

اسرائیل کا کہناہے کہ وہ امن چاہتا ہے لیکن اگرفلسطینوں کے حملے جاری رہتے ہیں تو وہ کارروائی کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کا کہناہے کہ ہم بلاشبہ سکون اور سیکیورٹی چاہتے ہیں اور کشیدگی کو ہوا دینے کی ہماری کوئی خواہش نہیں ہے۔ لیکن ہم اپنے شہریوں پر حملوں کے خلاف اسرائیل کی دفاعی فورسز کے استعمال میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ ہم اپنے شہریوں کے خلاف حملے برداشت نہیں کریں گے۔

اشدود ایک پرسکون ساحلی شہر ہے اور یافا بریگا جیسے افراد سکون کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔مگر اسکول کئی دنوں سے بند ہیں ۔ یافا کی 17 سالہ بیٹی ٹونی اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔وہ کہتی ہیں کہ حالات اس سمت آگے نہیں بڑھ سکتے۔ میں بھی یہاں رہتے ہوئے خطرہ محسوس کرتی ہوں ۔ میں 12 جماعت کی طالبہ ہوں اور اس صورت حال کے باعث اسکول والوں نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ میں بھی یہ چاہتی ہوں کہ حالات بہتر ہوں اور امن قائم ہو۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا کبھی ہوسکے گا۔

دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی اسے وقوع پذیر ہونے سے روکنے کے لیے پہلا قدم اٹھائے گا۔

XS
SM
MD
LG