رسائی کے لنکس

غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی منصوبہ بندی

  • ڈروئین جونز

آئی ایچ ایچ کے سربراہ بلند یلدرم

آئی ایچ ایچ کے سربراہ بلند یلدرم

گذشتہ مئی میں اسرائیلی فورسز نے 9 ترک شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا جو غزہ کی پٹی کی اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان ہلاکتوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی خراب ہو گئے تھے ۔ اب ایک نیا بحران پیدا ہونے والا ہے۔ ترک شہریوں کی ہلاکت کی برسی قریب آ رہی ہے، اور غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی ایک اور کوشش کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔

گذشتہ سال کی ہلاکتوں پر ترکی بھر میں احتجاج ہوئے تھے ۔ نو ترک شہری ترک بحری جہاز Mavi Marmara پر ہلاک ہوئے تھےجو اس بحری بیڑے کا حصہ تھا جو غزہ کی پٹی کی اسرائیلی اقتصادی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ترکی میں قائم فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس، فریڈمز اینڈ ہیومنیٹیرین ریلیف نے ،جسے مختصراً IHH کہتے ہیں، اس بحری بیٹرے کو منظم کیا تھا۔ اب ایک سال بعد، یہی تنظیم اسرائیل کی نافذ کی ہوئی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیئے ایک اور سفر کی تیاری کر رہی ہے ۔ IHH کے لیڈر بلند یلدرم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بحری بیڑا تیار کر رہے ہیں اور اس میں یورپ کے ہر ملک کا ایک جہاز شامل ہو گا۔ ترکی کا بحری جہاز Mavi Marmara اس بحری بیڑے کا حصہ ہو گا، اور جب تک غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، زمین سے، سمندر سے اور فضا سے انتیفدا جاری رہے گا۔

گذشتہ سال اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ترک شہریوں کی ہلاکت سے، اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات میں بحران پیدا ہو گیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا تھا۔ 12 مہینے گذرنے کے بعد بھی تعلقات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ ترکی کی حکومت کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل متاثرین کو معاوضہ ادا کرے اور اپنے طرز عمل کی معافی مانگے۔ اسرائیل نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

ایک نئے بحری بیڑے کے امکان پر اسرائیلی سفیر گیبی لیوے نے ترک حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس کارروائی کو روکے ۔ ترکی کے اعلیٰ سفارتکار سلیم یینل کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں بے بس ہیں۔’’یہ کوئی سرکاری اقدام نہیں ہے۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔ یہ ایک NGO یعنی غیر سرکاری تنظیم کی کارروائی ہے ۔ ہم پہلی بار بھی اسے نہیں روک سکے تھے اورنہ دوسری بار اس بحری بیڑے کو روک سکتے ہیں۔ اگر بحری بیڑا سفر شروع کر دیتا ہے تو ہم ان سے ایک بار پھر یہی کہیں گے کہ وہ احتیاط سے کام لیں، لیکن میرے خیال میں احتیاط ایسی چیز ہے جس سے کام لینے کی زیادہ ضرورت اسرائیلیوں کو ہے۔‘‘

لیکن استنبول یونیورسٹی کے پروفیسر نورے مرٹ کہتے ہیں کہ ترک حکومت اس معاملے میں مداخلت کر سکتی ہے کیوں کہ اس بحری بیڑے کو منظم کرنے والی فلاحی تنظیم پر اسلام کا گہرا اثر ہے اور اس تنظیم کے ترکی کی اسلام پسند حکمران AK پارٹی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ پروفیسر مرٹ انتباہ کرتے ہیں کہ اگر اس نئے بحری بیڑے نے اپنا سفر شروع کر دیا، تو ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری کے امکانات کو سخت نقصان پہنچے گا۔

’’اگر کسی بھی سطح پر مصالحت کا کوئی امکان ہے تووہ پس پشت جا پڑے گا۔ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ حکومت کے ان لوگوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں جو پہلے بحری بیڑے میں شامل تھے اور اب دوسرے بیڑے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حکومت کے بہت قریب ہیں۔ اس لیئے اگر حکومت چاہے تو انہیں روک سکتی ہے۔‘‘

لیکن ترکی کے روزنامے Haberturk کے کالم نویس سولی اوزال کہتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے حکومت کو ترک ووٹروں کی، خاص طور سے عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سال جون میں ہونے والے انتخابات کی روشنی میں یہ پہلو اہم ہے۔ ’’انتخابات سے ذرا پہلے ترک حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ اس نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوگا اور دونوں فریق زیادہ دانشمندی سے کام لیں گے ۔

مبصرین نے انتباہ کیا ہے کہ شام میں پہلے ہی ہنگامے ہو رہے ہیں اور علاقہ کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن آنے والے ہفتوں میں بحری بیڑے کی روانگی ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG