رسائی کے لنکس

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس 15 منزلہ عمارت میں 70 خاندان رہتے تھے جب کہ یہاں پر متعدد دفاتر اور شاپنگ کمپلیکس بھی تھا۔

فلسطیین میں حکام نے کہا ہے کہ غزہ میں دو بلند ترین عمارتوں پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

منگل کو علی الصبح ایک 15 منزلہ عمارت پر حملے میں کم ازکم 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔

15 منزلہ عمارت میں دفاتر اور رہائشی اپارٹمنٹس تھے اور اسرائیل نے اس پر حملے سے قبل اس بارے میں متنبہ کر دیا تھا۔

پیر کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم ازکم آٹھ افراد مارے گئے جب کہ فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیلی علاقے میں 80 راکٹ داغے گئے۔

آٹھ جولائی سے جاری لڑائی میں 2100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے اور ان میں پانچ سو کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کی طرف چار شہری اور 64 فوری مارے گئے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس 13 منزلہ عمارت میں 70 خاندان رہتے تھے جب کہ یہاں پر متعدد دفاتر اور شاپنگ کمپلیکس بھی تھا۔ حملے سے عمارت ایک طرف سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

اس عمارت کے قرب و جوار میں رہنے والے بھی اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیگر مقامات پر منتقل ہو رہے کیونکہ انھیں خطرہ ہے کہ عمارت منہدم ہونے سے انھیں بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان متعدد بار عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن دونوں فریق کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔

قاہرہ میں مصر کی کوششوں سے ان فریقوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے لیکن مصر نے ایک بھر پھر اسرائیل اور حماس سے درخواست کی ہے کہ وہ جنگ بندی کریں اور بات چیت دوبارہ شروع کریں۔

قاہرہ نے تجویز دی ہے کہ غزہ میں داخلے کے کلیدی راستوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھولا جائے تاکہ وہاں امداد اور تباہ ہونے والی عمارتوں کی بحالی کے لیے سامان مہیا کیا جاسکے۔

ایک روز قبل فلسطینی حکام اس تجویز پر رضا مند دکھائی دے رہے تھے لیکن اسرائیل کی طرف سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG