رسائی کے لنکس

امدادی بحری بیڑے پرحملہ جائز تھا: اسرائیلی کمشن


ترکل کمشن کے سربراہ جسٹس جیکب ترکل ایک پریس کانفرس کے دوران تحقیقاتی رپورٹ پیش کررہے ہیں۔

ترکل کمشن کے سربراہ جسٹس جیکب ترکل ایک پریس کانفرس کے دوران تحقیقاتی رپورٹ پیش کررہے ہیں۔

ترکل کمشن نے اتوار کو شائع کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب اسرائیلی کمانڈوز غزہ پر اسرائیلی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کشتیوں پر اترے تو فلسطین کے حمایتی اراکین نے ان پر ہلہ بول دیا اور اپنے دفاع میں فوجیوں نے جوابی کارروائی کی۔

اسرائیل کے تحقیقاتی کمشن نے گزشتہ سال غزہ کے لئے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے پر مہلک حملے کے لئے عالمی ٕٕٕسطع پر مذ مت کے باوجوداسرائیلی حکومت اور فوج کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔

ترکل کمشن نے اتوار کو شائع کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب اسرائیلی کمانڈوز غزہ پر اسرائیلی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کشتیوں پر اترے تو فلسطین کے حمایتی اراکین نے ان پر ہلہ بول دیا اور اپنے دفاع میں فوجیوں نے جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ترکی کے آٹھ اور ایک امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ تحقیقاتی کمشن ایک سابق اسرائیلی جج اور دو بیرونی مبصروں پر مشتعل ہے جن کا تعلق کینیڈاا ور آئرلینڈ سے ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر ناگواری اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کی جانب سے اسی واقعہ سے متعلق کی گئی انکوئری کی ابتدائی رپورٹ بھی اتوار کو شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سےحملے کے دوران طاقت کا استعمال غیر متناسب تھا۔

واقعہ کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور اسرائیلی نے غزہ کے خلاف پابندیاں نرم کر دیں۔

اسرائیلی کمشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تین سال سے زیادہ عرصے غزہ کا ٕ محاصرہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔مگر اس نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ کی آبادی کی بجائے فلسطین کے عسکریت پسند گروہ حماس پر پابندیاں لگانے پر توجہ دے۔

XS
SM
MD
LG